صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 335 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 335

صحيح البخاری جلد ا ۳۳۵ ۵- كتاب الغسل سکتا۔ تحت لفظ جنب - جلد اول صفحہ ۱۹۳) لفظ جنب کی بھی اسی اصل کے مطابق ضروری اصلاح کی گئی ہے۔ اسلام نے یہ قبول کر لیا کہ جنبی اپنے اندر ایک حد تک معنوی ناپا کی رکھتا ہے اور یہ ناپا کی صرف اس قدر ہے کہ جب انسان اپنی شہوت میں سرتا پا منہمک ہو جاتا ہے تو اس کے قومی متاثر ہو کر دب جاتے ہیں۔ اس پر ایک خمار اور ر بودگی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ حالت اپنے ساتھ ایک پژمردگی بھی رکھتی ہے جو نہانے سے دور ہو جاتی ہے اور اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ انسان نہا نہ لے۔ نہانے تک جنبی نماز سے الگ رہے بوجہ اس کے کہ نماز کا حق نشاط نفس اور حضور قلب کے ساتھ ہی ادا ہو ا ہے۔ یہ وہ معنی ہے جو اسلام نے لفظ جُنب کو دیا اور فرمایا: إِن كُنتُمْ جُنَّبًا فَاطَّهَّرُوا - (المائدة: ) اگر تم جنبی ہو تو نہا کر پاک وصاف ہو جاؤ۔ اس آیت میں فاطَّهَّرُوا سے جو ابہام پیدا ہوتا تھا وہ دوسری آیت سے دور کیا گیا ہے۔ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنتُمُ سُكرى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ۔ وَلَا جُنَّبًا ۔۔۔ حَتَّى تَغْتَسِلُوا ۔ (النساء :(۴۴) یعنی نشے کی حالت میں اس وقت تک نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ نشہ دور نہ ہو جائے اور تم جو کہو اس کا علم رکھو اور ایسا ہی جنبی ہونے کی حالت میں اس وقت تک نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک کہ تم نہا نہ لو۔ اس آیت میں حتٰی تَغْتَسِلُوا کہہ کر فَاطَّهَّرُوا کی تشریح کر دی ہے۔ یعنی اظہار سے مراد نسل کرنا ہے۔ نیز لفظ جنبًا کو وَانْتُمْ سُکری کے مقابل پر رکھ کر بتلا دیا ہے کہ جنابت میں بھی قومی اس طرح دب جاتے ہیں جس طرح نشہ کی حالت میں اور جنابت کی یہ معنوی ناپا کی نہانے تک رہتی ہے جس طرح کہ نشہ کی ناپاکی ہوش آنے تک اور یہ دونوں حالتیں مانع ہیں نماز کی ۔ شراب چونکہ بعد میں حرام کی جانی تھی اس لیے اس کے ساتھ حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ کی شرط لگادی ہے اور جنابت کی حالت چونکہ طبعی ضرورت کے ماتحت برقرار رہنی تھی اس لیے اس کا دائمی علاج غسل فرمایا جو سارے بدن کا وضو ہے ۔ ، بدن کا وضو ہے ۔ اور حالت جنابت میں نماز کے لیے اسی طرح رح ضروری ہے جس طرح حَدَثِ أَصْغَر میں وضو ضروری ہے۔ اس تعلق کو مد نظر رکھ کر امام بخاری نے کتاب الوضوء کے بعد کتاب الغسل کو شروع کیا ہے۔ غرض اسلام نے جنابت کی ناپاکی کو ایک نہایت محدود معنوں میں قبول کیا ہے اور صرف اسی حد تک جس حد تک کہ انسانی طبیعت پر اس کا اثر پڑتا ہے، نہ ان وسیع معنوں میں جن کا مختصر ذکر او پر کیا جا چکا ہے۔ مذکورہ بالا دو آیتیں مسئلہ جنابت و طہارت کے متعلق تمام شرعی احکام کی اصل بنیاد ہیں ۔ امام موصوف نے ان کا حوالہ دے کر اٹھائیس باب قائم کئے ہیں۔ جن میں جنابت اور طہارت۔ اور طہارت کے متعلق مختلف مسائل کا بیان ہے۔ ان میں سے بعض کا تعلق زمانہ جاہلیت واہلِ کتاب کے اوہام اور رسم و رواج کی اصلاح کے ساتھ ہے اور بعض کا تعلق اسلامی فقہاء کی فقہی غلطیوں کے ساتھ اور بعض کا ان قواعد سے جن کی پابندی یا عدم پابندی جسمانی و باطنی اور معنوی طہارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔