صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxix of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxix

صحيح البخاري ۱۹ دیباچه صحیح مسند بخاری کاماً خذ اور طریق انتخاب: انہوں نے روایات کے انتخاب میں علاوہ مذکورہ بالا قاعدہ کے یہ قاعدہ بھی مد نظر رکھا کہ روایت کم از کم ایک ثقہ صحابی سے مروی ہو۔ جس کی سند متصل غیر منقطع ہو اور صحابی سے روایت کرنے والے تابعین بھی ثقہ ہوں اور ان کے در میان اختلاف نہ ہو اور اس میں عموماً ایسے صحابی کی روایت کو ترجیح دی ہے جس سے دو یا دو سے زیادہ تابعین نے روایت کی ہے۔ وعلیٰ ھذا القیاس تبع تابعین کے متعلق بھی یہی احتیاط برتی گئی ہے ۔ کسی راوی کے ثقہ ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ متدین مسلمان، چال چلن کا نیک ، ہر ایک تہمت سے مبرا، حافظہ کا مضبوط عقل و ادراک کا مالک اور راست گوئی اور راست روی میں خاص طور پر شہرت رکھتا ہو اور جس شخص سے اس نے روایت کی ہے، اس سے اس کا ملنا ثابت ہو۔ امام مسلم بن الحجاج نے کم از کم دو ثقہ ہم عصر تابعین کی شرط پر اکتفاء کیا ہے۔ خواہ ان کی آپس میں ملاقات ثابت ہو یا نہ ہو۔ صرف ملاقات کے امکان تک ہی اپنی تحقیق کو محد و درکھا ہے۔ صحت روایت میں امام محمد بن اسماعیل کی شرائط نقد و تعدیل نہایت کڑی ہیں۔ انہوں نے چار سو میں سے کچھ اوپر راویوں سے روایتیں اخذ کی ہیں۔ جن میں سے اسی (۸۰) راویوں کے متعلق بعض اعتراض ہوئے ہیں۔ لیکن یہ اسی (۸۰) راوی اکثر ان کے وہ مشائخ ہیں جن سے امام موصوف ملے اور ان کی صحبت میں ایک عرصہ رہ کر ان کے حالات معلوم کئے اور ان سے تبادلہ خیالات کر کے ان کی روایتوں کو جانچا اور پرکھا اور اُس وقت تک ان کی روایتوں کو قبول نہیں کیا جب تک کہ اپنے اصول نقدی ا نقد یعنی قرآن مجید او مجید اور سنت نبویہ کے ذریعہ اور دیا ذریعہ اور دیگر ممکن ذرائع سے انہیں جانچ نہیں لیا۔ چنانچہ امام موصوف نے اپنی صحیح میں جب ایسے راوی سے روایت کی ہے جس کے متعلق کسی شبہ کا احتمال ہو تو وہاں انہوں نے خود ہی اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ امام موصوف نے اپنے انتخاب میں اکثر طبقہ اولیٰ کے راویوں کی حدیثوں کو قبول کیا ہے اور طبقہ ثانیہ کی سب روایتیں قبول نہیں کیں بلکہ ان میں سے اپنی شرائط کے مطابق بہترین کو اختیار کیا ہے۔ طبقہ اولی و ثانیہ سے مراد اس مثال سے واضح ہوگی کہ قرن اول کے تابعی محدثین میں سے زہری رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت بڑے پائے کے محدث ہیں جو امام مالک کے استاد تھے ۔ اب امام بخاری کے نزدیک زہری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرنے والے اعلیٰ طبقہ کے وہ راوی ہوں گے جو ہر لحاظ سے ثقہ ہوں ۔ اُن کا حافظہ بھی عمدہ ہو اور ان کی روایت کے الفاظ میں ربط و ضبط بھی ہو اور اس میں کسی قسم کی تدلیس واقع نہ ہوئی ہو۔ علاوہ ازیں وہ راوی زہری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں سفر و حضر میں ایک لمبا عرصہ رہے ہوں۔ جیسے یونس بن یزید ، عقیل بن خالد ، مالک بن انس ، سفیان بن تهمینه ، شعیب بن ابی حمزہ ۔ مگر جن راویوں کو ان کے ساتھ تھوڑا عرصہ رہنے کا موقع ملا ہے انہیں امام موصوف نے طبقہ ثانیہ میں شمار کیا ہے اور طبقہ ثالہ اور طبقہ ثالثہ سے مراد وہ راویان ہیں جنہیں صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا خواہ ان کی ملاقات ثابت ہو۔ حالانکہ وہ ثقہ ہونے کے لحاظ سے باقی تمام صفات ضرور یہ میں طبقہ اولی کے راویوں کے ہم پلہ ہیں۔ اوزاعی، لیث بن سعد، عبدالرحمن بن خالد بن مسافر اور ابن ابی ذئب طبقہ ثانیہ کے