صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxix
صحيح البخارى 19 دیباچه انہوں نے روایات کے انتخاب میں علاوہ مذکورہ بالا صحیح مسند بخاری کاماً خذ اور طریق انتخاب: قاعدہ کے یہ قاعدہ بھی مدنظر رکھا کہ روایت کم از کم ایک ثقہ صحابی سے مروی ہو۔جس کی سند متصل غیر منقطع ہو اور صحابی سے روایت کرنے والے تابعین بھی ثقہ ہوں اور ان کے درمیان اختلاف نہ ہو اور اس میں عموماً ایسے صحابی کی روایت کو ترجیح دی ہے جس سے دو یا دو سے زیادہ تابعین نے روایت کی ہے۔وعلی ھذا القیاس تبع تابعین کے متعلق بھی یہی احتیاط برتی گئی ہے۔کسی راوی کے ثقہ ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ متدین مسلمان ، چال چلن کا نیک، ہر ایک تہمت سے مبرا، حافظہ کا مضبوط عقل و ادراک کا مالک اور راست گوئی اور راست روی میں خاص طور پر شہرت رکھتا ہو اور جس شخص سے اس نے روایت کی ہے، اس سے اس کا ملنا ثابت ہو۔امام مسلم بن الحجاج نے کم از کم دو ثقہ ہم عصر تابعین کی شرط پر اکتفاء کیا ہے۔خواہ ان کی آپس میں ملاقات ثابت ہو یا نہ ہو۔صرف ملاقات کے امکان تک ہی اپنی تحقیق کو محد و درکھا ہے۔صحت روایت میں امام محمد بن اسماعیل کی شرائط نفقد و تعدیل نہایت کڑی ہیں۔انہوں نے چار سو میں سے کچھ اوپر راویوں سے روایتیں اخذ کی ہیں۔جن میں سے اسی (۸۰) راویوں کے متعلق بعض اعتراض ہوئے ہیں۔لیکن یہ اسی (۸۰) راوی اکثر ان کے وہ مشائخ ہیں جن سے امام موصوف ملے اور ان کی صحبت میں ایک عرصہ رہ کر ان کے حالات معلوم کئے اور ان سے تبادلہ خیالات کر کے ان کی روایتوں کو جانچا اور پر کھا اور اُس وقت تک ان کی روایتوں کو قبول نہیں کیا جب تک کہ اپنے اصول نقد یعنی قرآن مجید اور سنت نبویہ کے ذریعہ اور دیگر ممکن ذرائع سے انہیں جانچ نہیں لیا۔چنانچہ امام موصوف نے اپنی صحیح میں جب ایسے راوی سے روایت کی ہے جس کے متعلق کسی شبہ کا احتمال ہو تو وہاں انہوں نے خود ہی اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ امام موصوف نے اپنے انتخاب میں اکثر طبقہ اولیٰ کے راویوں کی حدیثوں کو قبول کیا ہے اور طبقہ ثانیہ کی سب روایتیں قبول نہیں کیں بلکہ ان میں سے اپنی شرائط کے مطابق بہترین کو اختیار کیا ہے۔طبقہ اولی دثانیہ سے مراد اس مثال سے واضح ہوگی کہ قرن اول کے تابعی محدثین میں سے زہری رحمتہ اللہ علیہ ایک بہت بڑے پائے کے محدث ہیں جو امام مالک کے استاد تھے۔اب امام بخاری کے نزدیک زہری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرنے والے اعلیٰ طبقہ کے وہ راوی ہوں گے جو ہر لحاظ سے ثقہ ہوں۔اُن کا حافظہ بھی عمدہ ہو اور ان کی روایت کے الفاظ میں ربط وضبط بھی ہو اور اس میں کسی قسم کی تدلیس واقع نہ ہوئی ہو۔علاوہ ازیں وہ راوی زہری رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت میں سفر و حضر میں ایک لمبا عرصہ رہے ہوں۔جیسے یونس بن یزید عقیل بن خالد، مالک بن انس، سفیان بن همینه ،شعیب بن ابی حمزہ۔مگر جن راویوں کو ان کے ساتھ تھوڑا عرصہ رہنے کا موقع ملا ہے انہیں امام موصوف نے طبقہ ثانیہ میں شمار کیا ہے اور طبقہ ثالثہ سے مراد وہ راویان ہیں جنہیں صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا خواہ ان کی ملاقات ثابت ہو۔حالانکہ وہ ثقہ ہونے کے لحاظ سے باقی تمام صفات ضرور یہ میں طبقہ اولیٰ کے راویوں کے ہم پلہ ہیں۔اوزاعی، لیث بن سعد، عبد الرحمن بن خالد بن مسافر اور ابن ابی ذئب طبقہ ثانیہ کے