صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page iii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page iii

دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آتا کی شوکت خادموں کے ہونے سے بڑھتی ہے۔قرآن خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ کا فعل اور حدیث سنت کے لئے ایک تائیدی گواہ ہے پس حدیث کا قدر نہ کرنا گویا ایک عضو اسلام کا کاٹ دینا ہے۔ہاں اگر ایک ایسی حدیث ہو جو قرآن اور سنت کے نقیض ہو اور نیز ایسی حدیث کی نقیض ہو جو قرآن کے مطابق ہے یا مثلاً ایک ایسی حدیث ہو جو صحیح بخاری کے مخالف ہے تو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہوگی۔کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اور ان تمام احادیث کو جو قرآن کے موافق ہیں رڈ کرنا پڑتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پر ہیز گار اس پر جرات نہیں کرے گا کہ ایسی حدیث پر عقیدہ رکھے کہ وہ قرآن اور سنت کے برخلاف اور ایسی حدیثوں کے مخالف ہے جو قرآن کے مطابق ہیں۔بہر حال احادیث کا قدر کرو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور جب تک قرآن اور سنت ان کی تکذیب نہ کرے تم بھی ان کی تکذیب نہ کرو۔بلکہ چاہیے کہ احادیث نبویہ پر ایسے کار بند ہو کہ کوئی حرکت نہ کرو اور نہ کوئی سکون اور نہ کوئی فعل کرو اور نہ ترک فعل۔مگر اس کی تائید میں تمہارے پاس کوئی حدیث ہو۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۱ تا ۶۳) پھر فرماتے ہیں:۔ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہیے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر ایسی مشکوۃ وجی سے نور حاصل کرنے والے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے مخالف ہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه (۲۲) ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن وسنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو تر جیح دیں۔وسط کا طریق اپنا مذ ہب سمجھ لیں یعنی نہ تو ایسے طور سے بکلی حدیثوں کو اپنا قبلہ وکعبہ قرار دیں جس سے قران متروک اور مہجور کی طرح ہو جائے اور نہ ایسے طور سے ان حدیثوں کو معطل اور لغو قرار دے دیں جن سے احادیث نبویہ بکلی ضائع ہو جائیں۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۳٬۲۱۲) قرآن شریف کی اور احادیث کی جو پیغمبر خدا سے ثابت ہیں اتباع کریں۔ضعیف سے ضعیف حدیث اور جو بھی بشر طیکہ وہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہو ہم واجب اعمل سمجھتے ہیں اور بخاری اور مسلم کو بــعــد كتاب الله اصح الکتب مانتے ہیں۔لملفوظات جلد ۴ صفحه ۱۰۸۱۰۷)