صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 326 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 326

صحيح البخاری جلد ا ۳۲۶ -۴- كتاب الوضوء صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَرَابِ حضرت عائشہ سے ، حضرت عائشہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر ایک پینے کی چیز جو نشہ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ۔اطرافه ٥٥٨٥، ٠٥٥٨٦ لائے حرام ہے۔تشریح: نَبِيد : خشک انگور کا شربت جو نشہ آور نہیں ہوتا۔امام بخاری کو یہ باب قائم کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ ایک کمز ور روایت کی بناء پر جو امام ابن رشد نے اپنی کتاب بدایۃ المجتہد میں مفصل بیان کی ہے ، امام ابو حنیفہ نے سفر میں پانی نہ ملنے پر کھجور کے شربت سے وضو کرنے کی اجازت دی تھی۔گو بعد میں انہوں نے اس فتویٰ سے رجوع بھی کرلیا۔مگر باوجود اس کے بعض علماء اس کے جواز و عدم جواز کی بحث میں پڑ گئے۔امام بخاری نے یہ روایتیں بوجہ کمزور ہونے کے نظر انداز کر دی ہیں اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان چیزوں سے وضو کرنا جائز نہیں۔حسن بصری اور ابوالعالیہ اور عطاء بن ابی رباح کے جن فتووں کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس کی تفصیل فتح الباری ( جزء اول صفحہ ۴۶۰ ) میں دیکھی جائے۔جمہور کا بھی یہی مذہب ہے اور انہوں نے قرآن مجید کے اس صریح حکم سے استدلال کیا ہے: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيْبًا ( المائدہ: ) پانی نہ ملے تو پاکیزہ مٹی کا قصد کرو۔صاف سادہ حکم ہے خواہ مخواہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا شارع اسلام کے منشاء کے بالکل بر خلاف ہے۔بَاب ٧٢: غَسْلُ الْمَرْأَةِ أَبَاهَا الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا وہ بیمار ہے۔وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ امْسَحُوْا عَلَى رِجْلِي اور ابو العالیہ نے کہا: میرے پاؤں پر مسح کرو۔کیونکہ فَإِنَّهَا مَرِيْضَةٌ۔٢٤٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا :۲۴۳: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: سفیان بن عیینہ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَمِعَ نے ابو حازم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔سَهْلَ بْنَ سَعْدِ السَّاعِدِيَّ وَسَأَلَهُ انہوں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا۔لوگوں نے النَّاسُ وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَحَدٌ بِأَيِّ شَيْءٍ ان سے پوچھا تھا۔اس وقت میرے اور ان کے درمیان اور کوئی نہ تھا۔کس چیز سے نبی ﷺ کے زخم دُوْوِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کا علاج کیا گیا؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کے متعلق وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا۔حضرت كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيْهِ مَاءً على اپنی ڈھال لاتے تھے جس میں پانی ہوتا اور