صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 327
سحيح البخاری جلد ا ۳۲۷ ۴- كتاب الوضوء وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ فَأُخِذَ حضرت فاطمہ آپ کے چہرے سے خون دھوتی حَصِيْرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ۔تھیں۔پھر چٹائی لی گئی اور اسے جلایا گیا اور اس سے آپ کا زخم بھرا گیا۔اطرافه ۲۹۰۳، ۲۹۱۱ ،۳۰۳۷، ٤٠۷۰ ٥٢٤٨ ٥٧٢٢ تشریح : غَسْلُ الْمَرْأَةِ آبَاهَا الدَّمَ: باب مذکور کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت پر اپنا زخم اپنی بیٹی سے دھلوایا۔جبکہ آپ کے داماد حضرت علی بھی موجود تھے۔پس اگر انسان بیمار ہونے یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے خود وضو نہیں کر سکتا یا نہ نہیں سکتا تو وہ کسی دوسرے سے مدد لے لے، خواہ محرم عورت ہی ہو۔ابوالعالیہ نے تو مسیح بھی دوسروں سے کروایا تھا۔ابو العالیہ کا یہ واقعہ عاصم بن سلیمان نے بیان کیا ہے۔( فتح الباری جزء اول صفحه ۴۶۱) سابقہ باب میں کپڑے میں تھوک وغیرہ لگنے کا ذکر تھا۔یہ باب قائم کر کے سمجھایا ہے کہ ازالہ نجاست ضروری ہے۔خواہ وہ خون کی صورت میں ہو یا تھوک و مینٹھ کی صورت میں۔بچہ دان جو آپ کی پیٹھ پر رکھا گیا تھا، وہ بھی علیحدہ کیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برداشت نہیں کیا کہ آپ کے سر اٹھانے سے بچہ دان گر کر بیت اللہ کے فرش کو خراب کر دے اور اس کا انتظار کیا کہ کوئی آکر اس کو پیٹھ سے اُتار دے۔امام موصوف نے غَسْلُ الْمَرْأَةِ آبَاهَا کے الفاظ منتخب کر کے ان علماء کے غلو آمیز خیال کی تردید کر دی ہے جو اَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا (المائدۃ:۷) (یا تم نے عورتوں سے تعلق قائم کیا ہو اور اس حالت میں تمہیں پانی نہ ملے تو خشک پاکیزہ مٹی کا تیم کرو۔} کے حکم کی بناء پر لفظ ملامست میں ہاتھ سے مطلق چھونا بھی شامل کرتے ہیں۔ان میں سے بعض تو یہاں تک پہنچ گئے کہ انہوں نے محرم رشتہ دار عورت کے چھونے سے بھی وضو دھرانا ضروری قرار دیا ہے خواہ کوئی ہو۔حالانکہ آیت اَو لَمَسْتُمُ النِّسَاء میں ملامت سے مراد مباشرت ہے۔قواعد کی رو سے اگر کوئی لفظ حقیقت و مجاز دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہو اور کوئی قرینہ نہ ہو تو پھر دیکھا جائے گا کہ وہ لفظ اکثر کس معنی میں استعمال ہوتا ہے اور غالب معنی کو ہی ترجیح دی جائے گی۔مثلاً غائط کے حقیقی معنی نشیب زمین کے ہیں لیکن عام بول چال میں اس کے معنی قضائے حاجت کی جگہ مراد ہوتی ہے۔اسی طرح ملامت کا لفظ مجاز اجماع کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ دو قرینے ہیں۔ایک یہ کہ اَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ کا فقرہ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ کے مقابل پر واقع ہوا ہے اور ان فقروں کے مفاہیم میں معنوی اشتراک ہے یعنی قضائے حاجت اور دوسرا قرینہ النساء کا ہے۔