صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 325
صحيح البخاری جلد ا ۳۲۵ ۴- كتاب الوضوء وہ روایت جو ان کے نقطہ نظر کو پیش کرتی ہے۔اس پر ایک اعتراض تھا اور وہ یہ کہ کئی ( قطان ) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حمید نے حضرت انس سے نہیں سنا۔بلکہ ثابت سے سنا، ثابت نے ابو نضرہ سے سنا۔امام موصوف نے دوسندوں کا ذکر کر کے بتلایا کہ حمید کی ساعت حضرت انس سے ثابت ہے اور ان کی طرف سے اس روایت میں کوئی تدلیس یعنی ملاوٹ نہیں ہوئی۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۵۹) چونکہ امام موصوف اس سماعت کی طرف خاص توجہ دلانا چاہتے ہیں۔اس لئے سَمِعْتُ انسا کہنے پر کفایت کی ہے اور طَوَّلَهُ ابنُ أَبِي مَرْيَمَ کہہ کر اس روایت کی طرف توجہ دلائی جس میں وضو کا ذکر ہے۔اپنے نقطہ نظر کو واضح کرتے ہوئے تدلیس کی طرف جو اشارہ کیا ہے وہ یہ بتلانے کے لئے کہ تدلیس عروہ کی مذکورہ بالا روایت میں ہوئی ہے نہ کسی اور میں۔کیونکہ صلح حدیبیہ کے وقت وہ موجود نہ تھے۔اس اعتبار سے یہ روایت مرسل ہوگی اور دوسری روایتیں وَمَا تَنَخَّمَ النَّبِيُّ اللہ کے مضمون کی تصدیق نہیں کرتیں ، جیسا کہ وضو کے پانی پر صحابہ کے لپکنے کی تصدیق کرتی ہیں۔اس لئے اس روایت کی بناء پر مسئلہ کی بنیاد رکھنا درست نہیں۔اس ضمن میں روایت نمبر ۱۸۹ کی تشریح بھی دیکھی جائے۔وہاں امام بخاری کے الفاظ قابل غور ہیں جو انہوں نے ابن شہاب سے نقل کئے ہیں۔قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بنُ الرَّبِيع (اور اس کے بعد کے الفاظ بطور جملہ معترضہ کے ہیں جو تعارف کرانے کے لئے ابن شہاب نے کہے ) وَقَالَ عُرْوَةُ عَنِ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِ سے مراد مروان بن حکم ہیں۔عروہ وغیرہ کے قول کا عطف صالح پر پڑتا ہے۔یعنی صالح نے ابن شہاب سے محمود بن ربیع کا قول بھی نقل کیا ہے اور عروہ کا بھی۔اس بناء پر يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَہ سے مراد یہ ہوگی کہ محمود اور عروہ ایک دوسرے کی روایت کی تصدیق کرتے ہیں۔یہ تعلق کرمانی نے واضح کیا ہے۔جس کو امام ابن حجر نے قبول نہیں کیا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۵۹) مگر امام بخاری کا طرز بیان دیکھ کر کرمانی" کا یہ خیال زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔بَاب ۷۱: لَا يَجُوْزُ الْوُضُوْءُ بِالنَّبِيْدِ وَلَا الْمُسْكِرِ نبیذ سے وضو کرنا جائز نہیں اور نہ ہی ایسی چیز سے جو نشہ آور ہو وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ وَقَالَ اور حسن اور ابو عالیہ نے اس کو مکر وہ جاتا ہے اور عطاء عَطَاءٌ التَّيَمُّمُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْوُضُوءِ نے کہا کہ نبیذ اور دودھ سے وضو کرنے کی نسبت تیم کرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔بِالنَّبِيْدِ وَاللَّبَن۔٢٤٢ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ :۲۴۲ ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: زہری نے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے