صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 324 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 324

صحيح البخاری جلد ا ۳۲۴ - كتاب الوضوء فِي ثَوْبِهِ {قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ } طَوَّلَهُ کپڑے میں تھوکا۔(ابوعبداللہ نے کہا کہ ) ابن ابی ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مریم نے یہ حدیث لمبی بیان کی۔انہوں نے کہا: بسیجی أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ بن ایوب نے ہمیں بتایا۔سیمی نے کہا: حمید نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے سنا۔حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کی۔اطرافه ٤٠٥ ، ٤۱۲، ٤۱۳ ٤١٧، ۵۳۱، ۵۳۲، ۱۲۱ صلى الله تشريح ہو جائے گا اور اس سے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق بھی فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔امام ابن حزم نے ابراہیم نخعی اور حضرت سلمان فارسی کا فتویٰ نقل کیا ہے۔جس کی رو سے تھوک وغیرہ جب وہ منہ سے باہر آجائیں پاک نہیں رہتے بلکہ نجس ہو جاتے ہیں۔بعض نے صلح حدیبیہ کے واقعہ سے جس کا مختصر ذکر اس سے پہلے روایت نمبر ۱۸۷ میں بھی آچکا ہے۔استدلال کیا ہے کہ تھوک پاک ہے۔اگر پاک نہ ہوتا تو صحابہ منہ اور بدن پر کیوں ملتے۔امام بخاری نے باب کے عنوان اَلْبُرَاقُ وَالْمُخَاطُ وَنَحْوَهُ کے ساتھ فی التَّوبِ کا لفظ بڑھا کر اس غلط خیال کی تردید کرتے ہوئے اصل بحث کی طرف اشارہ کیا ہے۔یعنی یہ کہ آیا ان چیزوں کے لگنے سے کپڑا ایسا نا پاک ہو جاتا ہے کہ نماز ہی اس میں درست نہیں ہوتی اور باب کے عنوان میں صلح حدیبیہ کا واقعہ جو اشارہ نقل کیا ہے، وہ اس لئے نقل نہیں کیا کہ وہ خود اس سے تھوک کے پاک ہونے کے مسئلہ کا استنباط کرنا چاہتے ہیں۔بلکہ ان کے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں۔اگر یہ مسئلہ استنباط کرنے کا منشاء ہوتا تو باب کے عنوان سے الگ اس واقعہ کو حدثنا کہتے ہوئے شروع کرتے۔کیونکہ یہ روایت ایسی نہ تھی جو امام موصوف کی شرطوں کے مطابق مستند نہ ہو۔گولفظی اختلاف ہے، مگر وہ اس کو مختصر پہلے بھی بیان کر چکے ہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۷ (۱۸) اور کتاب الشروط میں تفصیل کے ساتھ اسے نقل کیا ہے۔عنوانِ باب میں اس کو لانے سے امام بخاری کا مقصد صرف ان لوگوں کا نقطہ نظر پیش کرنا ہے جو محولہ بالا واقعہ کی بناء پر تھوک کے پاک ہونے کا استدلال کرتے ہیں اور اس باب کے ضمن میں حضرت انس کی جو روایت مختصر بیان کی ہے، اس سے اپنا نقطہ نظر بیان کرنا مقصود ہے۔یہ روایت بھی کتاب الصلوۃ میں مفصل آئے گی۔اس میں ہے کہ آپ نے نماز کی حالت میں کپڑے میں تھو کا اور نماز فاسد نہیں ہوئی۔جس طرح بچہ دان کے رکھنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز فاسد نہیں ہوئی تھی۔بَزَقَ النَّبِيُّ الله في ثوبه: امام بخاری نے عنوان باب میں جس روایت کا حوالہ دیا ہے، اس کا مقابلہ حضرت انس کی روایت کے ساتھ اشارہ سے کیا ہے اور اس خوبی سے کیا ہے کہ بغیر بہت الفاظ استعمال کرنے کے اپنا مقصد واضح کر گئے ہیں اور قارئین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس پر غور کریں۔کیونکہ اس کتاب کی ساری زینت یہی ان کا طرز بیان و استدلال ہے۔بہت سے مسائل وہ اس طریقہ تعبیر سے حل کرتے جائیں گے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۵۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔الْبُزَاقُ وَالْمُخَاطُ فِی التَّوبِ : کپڑے میں تھوک، رینٹھ وغیرہ لگا ہو تو کیا اس سے کپڑا نا پاک