صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 323
صحيح البخاری جلد ا -۴- كتاب الوضوء اور صحابہ نے بھی یہ دیکھ کر اپنی اپنی جوتیاں اتار دیں تو آپ نے اپنا جوتا اتارنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کے اتار نے کو پسند نہیں کیا اور نہ آپ نے نماز دھرائی۔(تفصیل کے لئے دیکھئے بداية المجتهد) باب کے عنوان میں یہ جو کہا ہے: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ) وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى فِي ثَوُبِهِ دَمًا وَّ هُوَ يُصَلِّي وَضَعَهُ۔یہ قول مسئلہ مذکورہ کے متعلق اختلافی رائے بیان کرنے کے لئے درج کیا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر" متشد دین میں سے تھے۔امام موصوف کا یہ قاعدہ ہے کہ مخالف گروہ کا نقطہ نظر بھی وہ کسی نہ کسی رنگ میں بیان کر کے مستند حدیث سے اپنے اصل مقصد کو واضح کر دیتے ہیں۔ابن مسیب اور شعبی کے (جو تابعی ہیں ) متذکرہ بالا حوالے امام ابن حجر نے مفصل نقل کئے ہیں۔اگر کوئی تیم کر کے نماز پڑھے اور پھر پانی پالے تو ان کے نزدیک اور ائمہ اربعہ کے نزدیک وہ نماز کا اعادہ نہ کرے۔ایسا ہی قبلہ کے بارے میں بھی اکثر فقہاء کا یہی فتویٰ ہے۔نیز خون یا منی وغیرہ کپڑے میں ہو تو اسلامی شریعت کے عام حکم کے مطابق تو یہی چاہیے کہ اسے دھو کر دور کر دے لیکن اگر کوئی مانع ہو تو نماز میں فرق نہیں آئے گا۔اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۵۳) حضرت عبد اللہ بن عمر بھی جو کہ متشد دین میں سے تھے گو کپڑے اُتار دیتے مگر نماز جاری رکھتے۔روایت نمبر ۲۴۰ کو ۵۲۰ میں دھرایا گیا ہے۔اس میں ساتویں آدمی کا نام عمارہ بن ولید مذکور ہے۔بَاب ۷۰: اَلْبُرَاقُ وَالْمُحَاطُ وَنَحْوُهُ فِي التَّوْبِ کپڑے میں تھوک اور رینٹھ وغیرہ کا لگنا وَقَالَ عُرْوَةُ عَنِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ عروہ نے مسور اور مروان سے نقل کیا کہ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ جس وقت حدیبیہ کا واقعہ ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حُدَيْبِيَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَمَا تَنَكَّمَ نکلے۔پھر انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا اور کہا : نبی النَّبِيُّ ﷺ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ صلى اللہ علیہ وسلم نے جب تھوکا تو وہ تھوک ان میں رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ سے کسی نہ کسی شخص کے ہاتھ پر پڑتا اور وہ اس کو اپنے منہ اور بدن پر مل لیتا۔٢٤١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۲۴۱ ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حمید سے حمید نے قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت انس سے روایت کی۔کہا نبی ﷺ نے اپنے