صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 322
صحيح البخاری جلد ا ۳۲۲ -۴- كتاب الوضوء بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذَا اے اللہ! تو ہی قریش سے سمجھ۔تین بار فرمایا۔یہ بات دَعَا عَلَيْهِمْ قَالَ وَكَانُوْا يَرَوْنَ أَنَّ ان پر گراں گزری۔کیونکہ آپ نے ان کے لئے بددعا الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ثُمَّ کی اور حضرت ابن مسعودؓ ) کہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ سَمَّى اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ وَعَلَيْكَ دعا اس شہر میں مقبول ہوتی ہے۔پھر آپ نے نام لیا کہ اے اللہ ! ابو جہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ کو پکڑ، شیبہ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيْعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بن ربیعہ کو پکڑ ، ولید بن عقبہ کو پکڑ ، امیہ بن خلف کو پکڑ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔(عمرو بن میمونہ نے) وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَّعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ ساتویں کو بھی گنا۔لیکن ہمیں یاد نہیں رہا۔(حضرت ابن نَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ مسعود کہتے تھے: پس مجھے اس کی قسم ہے کہ جس کے رَأَيْتُ الَّذِيْنَ عَدَّ رَسُولُ اللهِ مال ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں نے ان لوگوں کو جن کو صَرْعَى فِي الْقَلِيْبِ قَلِيْبِ بَدْرٍ۔رسول اللہ ﷺ نے شمار کیا تھا، دیکھا کہ کنوئیں میں کھڑے ہوئے پڑے تھے۔یعنی بدر کے کنوئیں میں۔اطرافه ۵۲۰، ۲۹۳۶، 3۱۸۵، 3854، 3960۔تشریح: إِذَا أُلْقِيَ عَلَى ظَهْرِ الْمُصَلّى قَذَرٌ باب نمبر ۶۶ کی تشریح میں بتلایا جا چکا ہے کہ فقہاء نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ آیا نجاست کا دور کرنا اور پاک وصاف رہنا وضوء کی صحت کے لئے اسی طرح شرط ہے جس طرح کہ حدث کی حالت میں وضو کرنا۔یا وہ بذات خود ایک مستقل علیحدہ مقصد ہونے کی وجہ سے واجب اور ضروری ہے۔جن لوگوں نے اس کو شرط قرار دیا ہے، ان کے نزدیک کپڑے پر تھوڑی سی نجاست بھی لگی ہو تو نماز جائز نہ ہوگی۔سوائے اس کے کہ اس کو اس کا علم نہ ہو یا وہ بھول گیا ہو یا اس کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور جن لوگوں نے اس کو نماز کے لئے شرط نہیں قرار دیا بلکہ اس کو علی الاطلاق ضروری قرار دیا ہے۔یعنی نماز کی حالت میں ہو یا نہ۔ان کے نزدیک نماز کے درست یا فاسد ہونے کے ساتھ اس کا کوئی واسطہ نہیں۔یہ بذات خود ایک پسندیدہ فعل ہے اور اس کا تعلق پاکیزہ اخلاق کے ساتھ ہے اور شریعت اسلامیہ نے اس بارہ میں علیحدہ تاکیدی احکام اور ہدایتیں دی ہیں۔صاف ستھرا اور پاک وصاف رہنا بھی تعلیم اسلام کی رو سے ایک نہایت ضروری امر ہے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ (المدثر: ۵) نہ اس لئے کہ اس کا نماز کی صحت کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق ہے، جیسے وضو کا۔یہ مذہب معقول ہے اور اسی مذہب کی تائید میں امام بخاری روایت نمبر ۲۴۰ لائے ہیں۔ظاہر ہے کہ بچہ دان ایک ناپاک چیز ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں اس سے کوئی خرابی واقع نہیں ہوئی۔صحابہ جوتیاں پہنے نماز پڑھتے اور کون نہیں جانتا کہ جوتیوں کے تلے علی الالعموم آلائش سے خالی نہیں ہوتے۔ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جوتا نماز پڑھنے کی حالت میں اتارا