صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 321
صحيح البخاری جلد ا ۳۲۱ ۴- كتاب الوضوء سَاجِدٌ } ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ { سجدہ میں } تھے۔ نیز (ابو عبد اللہ بخاری ) نے کہا: عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ مجھ سے سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا: شریح بن قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم أَبِيْهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي بن یوسف نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ صلى الله - عليسة ، پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے مجھے بتلایا کہ مَسْعُوْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ان سے پیار سے بیان کیا کہ نبی وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ ﷺ کعبہ کے پاس نماز وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَّهُ جُلُوسٌ إِذْ اس کے کچھ ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں وہ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم میں سے کون فلاں جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ قبیلے کی اوٹنی کا بچہ دان لائے گا اورمحمد کی پیٹھ پر جب مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ سجدہ کرے اس کو رکھ دے گا ؟ تو ان لوگوں میں سے پر وہ جو سب سے زیادہ بد بخت تھا؛ اُٹھ کھڑا ہوا اور اسے فَجَاءَ بِهِ فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ لے آیا اور انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ جب نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ عَلَى ﷺ نے سجدہ کیا تو اس نے آپ کی پیٹھ پر دونوں ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ لَا أُغْنِي کندھوں کے درمیان اسے رکھ دیا اور میں دیکھ رہا تھا شَيْئًا لَّوْ كَانَتْ لِي مَنَعَةٌ قَالَ فَجَعَلُوا اور میں کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ کاش مجھے روکنے کی قوت يَضْحَكُونَ وَيُحِيْلُ بَعْضُهُمْ عَلَى ہوتی۔ (حضرت ابن مسعود ) کہتے تھے: وہ بننے لگے بَعْضٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور ایک دوسرے کے ذمے لگارہے تھے اور رسول الله وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى صلى سجدہ میں پڑے تھے۔ اپنا سر نہیں اُٹھاتے تھے۔ آخر حضرت فاطمہ آپ کے پاس آئیں اور جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ انہوں نے آپ کی پیٹھ سے اس کو اُتار کر (ایک فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ طرف پھینک دیا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا۔ پھر کہا: ساجد فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۵۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ لفظ سا