صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 320
صحيح البخاری جلد ا ۳۲۰ -۴- كتاب الوضوء حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حضرت ابو ہریر گانے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔فرماتے نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ۔تھے : ہم آخر میں آنے والے ہیں لیکن آگے بڑھنے والے ہیں۔اطرافه ٨٧٦، ٨٩٦، ٢٩٥٦، ٣٤٨٦، ٦٦٢٤، ٦٨٨٧، ٧٠٣٦، ٧٤٩٥۔۲۳۹ وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ لَا يَبُوْلَنَّ :۲۳۹ اور اسی اسناد کے ساتھ یہ بھی روایت ہے کہ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے پانی میں جو لَا يَجْرِي ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيْهِ۔بہتا نہ ہو پیشاب نہ کرے کہ پھر اس میں نہائے۔باب ٦٩ إِذَا أُلْقِيَ عَلَى ظَهْرِ الْمُصَلِّي قَدَرٌ أَوْ حِيْفَةٌ لَّمْ تَفْسُدْ عَلَيْهِ صَلَاتُهُ اگر نماز پڑھنے والے کی پیٹھ پر گندگی یا مردار پھینک دیا جائے تو اس کی نماز خراب نہیں ہوتی وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ دَمًا ( بخاری نے کہا: ) اور حضرت ابن عمر جب کپڑے وَهُوَ يُصَلِّي وَضَعَهُ وَمَضَى فِي صَلَاتِهِ میں خون دیکھتے اور وہ اس وقت نماز پڑھ رہے ہوتے وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَالشَّعْبِيُّ إِذَا تو اسے اتار دیتے اور نماز پڑھتے رہتے۔اور ابن صَلَّى وَفِي ثَوْبِهِ دَمٌ أَوْ جَنَابَةٌ أَوْ لِغَيْرِ میتب اور شعیبی نے کہا جب نماز پڑھے اور اس کے الْقِبْلَةِ أَوْ تَيَمَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ الْمَاءَ کپڑے میں خون یا جنابت ہو یا قبلہ سے کسی اور فِي وَقْتِهِ لَا يُعِيْدُ۔طرف منہ ہو یا تیم کر کے نماز پڑھے اور پھر (اسی نماز کے وقت میں پانی پالے تو نماز نہ دھرائے۔٢٤٠ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي :۲۴۰ ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: میرے أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ باپ نے مجھے بتلایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت کی انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مسعود) سے ، انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ علی