صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxviii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxviii

صحيح البخاري ۱۸ دیباچه گزار دیئے اور تیسرے دن خرچ ملا۔ (هدى السارى مقدمة فتح البارى۔ ذكر سيرته وشمائله۔ صفر ۲۷۲) امام موصوف کو احادیث کی چھان بین میں بہت کچھ بادیہ پیمائی کرنی پڑی اور اس اثناء میں جہاں ان کا دل و دماغ روایات کے بحر ذخار میں لَا اَبْرَحُ حَتَّى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ کہتے ہوئے اپنا اپنا سفر طے کر رہے تھے۔ ان کے تن خاکی نے بھی مشرق و مغرب کے طول و عرض کی خاک بار بار چھانی ہے تا اس شوق بے کراں میں کسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈرر بے بہا ان کے ہاتھ لگیں اور وہ ان سے خیالات واہیہ کی گرد و غبار جھاڑ پونچھ کر ان کو سنہری ڈبیوں میں بند کر کے محفوظ طاقچوں میں رکھ دیں۔ آپ نے اپنی اس صحرا نوردی اور دشت پیمائی میں نہ صرف یہ کیا کہ خوبصورت پھولوں کی بکھری ہوئی پنکھڑیاں ایک ایک کر کے جمع کیں بلکہ انتہائی جسمانی کوفت اور دماغ سوزی سے کام لیتے ہوئے ان سے ایک نہایت قیمتی خلاصہ عطر تیار کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بابوں کی ترتیب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ کے پاس استخارہ کرنے اور دعائیں مانگنے کے بعد دی ۔ لیکن احادیث کی جمع و تدوین کا کام وہ اپنے ان طول طویل سفروں کے اثناء میں ہی کرتے رہے۔ ) عمدة القاري۔ فوائد تتعلق بصحيح البخارى الجزء الاول صفحه ۵) (هدى السارى مقدمة فتح البارى۔ ذكر فضائل الجامع الصحيح ۔ صفحه ۶۸۳) اس تمرہ جدو جہد کا نام ا نام مختصر جامع مسند صحیح “ رکھا ہے۔ معیار صحت حدیث: امام موصوف نے اپنے اس شمر ، ---- آپ نے روایات کے بحر ذخار میں سے انتخاب کرتے وقت اس قاعدہ کلیہ کو بطور معیار صحت کے مد نظر رکھا ہے کہ روایت زیر تحقیق کو قرآن مجید یا سنت نبویہ سے بھی تائید حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔ امام احمد عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے سلیم بن مجاہد کے حوالہ سے امام بخاری کا یہ قول نقل کیا ہے: لَا أَجِيءُ بِحَدِيثٍ عَنِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ إِلَّا عَرَفْتُ مَوْلِدَ أَكْثَرِهِمْ وَوَفَاتِهِمْ وَمَسَاكِنِهِمْ وَلَسْتُ اَرْوِي حَدِيثًا مِنْ حَدِيثِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ يَعْنِي مِنَ الْمُوْقُوفَاتِ إِلَّا وَلَهُ أَصْلٌ اَحْفَظُ ذَلِكَ عَنْ كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُوْلِهِ (هدى السارى مقدمة فتح البارى۔ ذكر جمل من الأخبار الشاهدة لسعة حفظه۔۔۔ صفحه (۶۸) یعنی جب تک مجھے صحابہ اور تابعین کی تاریخ ولادت و وفات اور جائے پیدائش کا علم نہ ہو جاتا؟ میں کبھی کسی صحابی یا تابعی کی روایت درج نہیں کرتا۔ نیز موقوف روایتیں اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ قرآن مجید اور سنت نبویہ سے اس کی تائید نہیں ہو جاتی۔ امام موصوف کو تاریخ سے بھی کمال درجہ شغف تھا۔ چنانچہ انہوں نے اٹھ ، اٹھارہ برس کی عمر میں جبکہ وہ مدینہ منورہ میں طال طالب علم تھے ، تاریخ پر ایک مبسوط کتاب لکھی ۔ (هدی الساری صفحہ ۶۷۰) انہیں کئی ہزار راویوں کے نام اور حالات از بر یاد تھے۔ سولہ سال کی عمر میں عبداللہ بن مبارک اور وکیع کی کتابیں حفظ کر چکے تھے۔ (هدی الساری صفحہ ۶۶۹) قرآن مجید کے بھی حافظ تھے۔ 71 علامہ عینی نے اس کتاب کا نام ” الجامع المسند الصحيح المختصر من امور رسول الله ﷺ و سننه وايامه “ درج کیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اول - فوائد تتعلق بصحيح البخارىی صفحہ ۵) جبکہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے " الجامع الصحيح المسند من حديث رسول الله له و سننه و ایامه بتایا ہے ۔ (مقدمة فتح البارى۔ الفصل الثاني في بيان موضوعه۔ عه صفحه ها) علی الله