صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 319
صحيح البخاری جلد ا ۳۱۹ - كتاب الوضوء اور مائع گھی کے استعمال سے منع فرمایا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۴۷) غرض جبکہ منجمد تھی جس میں نجاست سرایت نہیں کرنے پاتی پھینکنے کے لئے فرمایا تو پانی جس میں نجاست سرایت کرتی ہے، اس کو استعمال کرنا کب جائز ہوگا۔یہ امر واضح کرنے کے لئے باب باندھا ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پیش کیا ہے: لَا يَيُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِم۔(روایت نمبر ۲۳۸) یعنی کھڑے پانی میں انسان پیشاب نہ کرے کیونکہ وہ ہاتھ منہ دھونے اور نہانے کے کام کا نہیں رہے گا۔اگر نجاست کے پڑنے سے بو، رنگ اور مزہ کے بدلنے کی ہی خاص شرط ہوتی تو آپ اس کا ذکر فرماتے۔ایک تو یہ مسئلہ اس طرح حل کیا اور دوسراصل روایت نمبر ۲۳۷ سے کیا ہے۔ممکن ہے کہ کسی چیز کی شکل بھی وہی ہو، رنگ بھی وہی ہو جو دیکھنے میں آیا کرتا تھا۔مگر حقیقت اس کی متغیر ہو۔جیسے شہداء کا خون۔نظر تو وہ خون ہی آئے گا، رنگ بھی خون کا ہوگا۔مگر حقیقت میں وہ خون نہ ہو گا۔اس کی ماہیت تبدیل شدہ ہو گی۔اس لئے اگر پانی کا مزہ بھی نہ بدلے اور بواور رنگ بھی نہ بدلے۔تب بھی یہ ممکن ہے کہ اس کے اندر ایسا فرق پیدا ہو جائے جس سے اس کی صفت طہارت مفقود ہو جائے۔اگر صرف ظاہری الفاظ پر ہی انحصار رکھنا ہے تو پھر خوش بو دار پانی بھی استعمال کرنا نا جائز ہوگا۔حالانکہ وہ جائز بلکہ پسندیدہ چیز ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پیش کیا ہے اور زہری جیسے فقہاء کی منطق کا جواب منطق سے دیا ہے۔امام ابو حنیفہ نے اس مسئلہ کو قیاسی گردان کر یوں حل کیا ہے کہ انسان دیکھ لے کہ پانی اگر اس کثرت سے ہے کہ نجاست تمام پانی میں سرایت نہیں کر سکتی تو وہ اس کو بغیر تو ہم و تردد کے استعمال کرلے اور یہی خلاصہ ہے، روایت ۲۳۶،۲۳۵ کا۔لَا بَأْسَ برِيشِ الْمَيْتَةِ : باب کے عنوان میں ایک قول حماد کا نقل کیا ہے کہ مردہ جانوروں کے پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں اور دوسرا قول زہری کا نقل کیا ہے کہ ہاتھی جیسے مردہ جانوروں کی ہڈیاں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اس کے بعد ابن سیرین کا ایک قول نقل کیا ہے کہ ہاتھی دانت کی تجارت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ان اقوال کو ایک خاص ترتیب سے بیان کر کے یہ سمجھانا چاہا ہے کہ اس طرح مسائل کی باریکیوں میں پڑ کر انسان کہاں چلا جاتا ہے اور احادیث سے استدلال کرتے وقت ( امام موصوف نے ) ان تمام مختلف فیہ مسائل کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور ہم بھی اپنی شرح میں انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔حرام اشیاء کی بیع کا مسئلہ کتاب البیوع میں اپنے محل پر بیان ہو گا۔بَابِ ٦٨ : الْبَوْلُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ کھڑے پانی میں پیشاب کرنا ۲۳۸ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۲۳۸ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزَّنَادِ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا : ابو زناد نے ہم سے أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ بیان کیا کہ عبد الرحمان بن ہرمز اعرج نے ان