صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 318
صحيح البخاری جلد ا ۳۱۸ ۴- كتاب الوضوء صلى الله عليه سے ۲۳۷ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۳۷ : ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ نے ہمیں بتلایا ۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہم سے بیان عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّةٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ کیا۔ انہوں نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ كَلَّمَ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر وہ زخم جو سلمان کو اللہ تَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذْ طَعِنَتْ کی راہ میں لگتا ہے، قیامت کے دن ہو بہو اپنی اسی تَفَجَّرُ دَمَا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ شکل میں ہوگا جیسے اس وقت کہ جب وہ زخم لگایا گیا عَرْفُ الْمِسْكِ۔ اطرافه: ٢٨٠٣، ٠٥٥٣٣ تھا۔ اس سے خون پھوٹ کر نکلتا ہوگا۔ رنگ تو خون کا رنگ ہوگا اور بو مشک کی بو ہوگی ۔ تشريح : مَا يَقَعُ مِنَ النَّجَاسَاتِ فِي السَّمْنِ وَالْمَاءِ : اس باب میں چند ایسے مسائل کی طرف اشارہ کر کے ان کا حل کیا ہے، جن کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ پانی کے متعلق متفق علیہ مسئلہ یہ ہے کہ پانی پاک ہے، جب تک کہ اس کا مزہ یا رنگ یا بو نہ بدلے۔ اس پر یہ بحث اُٹھائی گئی ہے کہ اگر تھوڑی سی نجاست پانی میں پڑ جائے جس سے نہ اس کا رنگ بدلے نہ مزہ نہ ہوتو کیا وہ پاک ہوگا اور آیا وہ استعمال کر لیا جائے اور کیا وہ اس آیت کے مطابق پانی کہلا سکے گا: وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ (الانفال : (۱۲) یعنی وہ تم پر آسمان سے پانی اتارتا ہے تا اس کے ذریعہ سے تمہیں پاک کرے۔ بعض علماء نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر نجاست سے پانی کے صفات مذکورہ میں تغیر واقع نہیں ہو تو وہ پانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لَا بَأْسَ بِالْمَاءِ مَا لَمْ يُغَيِّرُهُ طَعْمُ أَوْ رِيحٌ أَوْ لَوْنَ: زُہری بھی انہی میں سے ہیں جن کا حوالہ امام موصوف نے باب کے عنوان میں دیا ہے۔ فقہاء کے درمیان یہ ایک اختلاف تھا۔ امام موصوف نے اس کا حل نہایت خوبی سے کیا ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے۔ ایسے پانی کے استعمال کرنے کا جواز امام مالک کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اس بارے میں ان کے تین قول مروی ہیں۔ ایک یہ کہ تھوڑی سی نجاست پانی کو خراب نہیں کرتی۔ وہ استعمال کر لیا جائے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خراب کر دیتی ہے۔ استعمال نہ کیا جائے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے پانی مکروہ ہو جاتا ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ بکثرت ہو۔ امام بخاری نے اس میں اختلاف کا حل خود امام مالک کی مستند روایت سے کیا ہے جو بقول معن کے انہوں نے اتنی دفعہ بیان کی کہ وہ شمار نہیں کر سکتے اور وہ یہ کہ گھی میں چوہا پڑنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آس پاس کے گھی کو پھینکنے کا حکم دیا ہے۔ بعض مستند روایتوں میں اس امر کی تصریح ہے کہ گھی منجمد تھا اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمے ہوئے گھی کے متعلق یہ فتوی دیا