صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 317
صحيح البخاری جلد ا ۳۱۷ ۴- كتاب الوضوء لَا يَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ سِيْرِيْنَ میں تیل رکھتے تھے اور اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے وَإِبْرَاهِيمُ وَلَا بَأْسَ بِتِجَارَةِ الْعَاجِ۔ تھے۔ ابن سیرین اور ابراہیم نے کہا: ہاتھی دانت کی تجارت میں کوئی حرج نہیں۔ ٢٣٥: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۲۳۵: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، صلى الله لرحم مَسْعُوْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُوْنَةَ أَنَّ عبید اللہ نے حضرت ابن عباس سے، حضرت ابن رَسُولَ اللهِ ﷺ سُئِلَ عَنْ فَأَرَةٍ عباس نے حضرت میمونہ سے روایت کی کہ رسول اللہ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ أَلْقُوْهَا وَمَا سے چوہے کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوْهُ وَكُلُوْا سَمْنَكُمْ۔ تھا۔ تو آپ نے فرمایا: اس کو اور جو اس کے ارد گرد اطرافه: ٢٣٦ ، ٥٥٣٨، 5539، 5540۔ ہے، پھینک دو اور اپنا گھی کھاؤ۔ ٢٣٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۳۶: ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ہم قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ سے معن نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں مالک ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، انہوں نے حضرت ابْنِ عُقْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ابن عباس سے حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ عَنْ مَّيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ نبی ﷺ سے وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأَرَةٍ سَقَطَتْ فِي چوہے کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ آپ سَمْنٍ فَقَالَ خُذُوْهَا وَمَا حَوْلَهَا نے فرمایا کہ اس کو اور جو گھی اس کے آس پاس ہے فَاطْرَحُوْهُ قَالَ مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ مَا لَا پھینک دو معن نے کہا کہ مالک نے اس حدیث کو أُحْصِيْهِ يَقُوْلُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ اتنی دفعہ بیان کیا ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتا۔ وہ حضرت ابن عباس سے نقل کرتے مَّيْمُونَةً۔ رتے تھے۔ وہ حضرت میمونہ ہے۔ اطرافه: ٢٣٥ ، ٥٥٣٨، 5539، 5540