صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 316
صحيح البخاری جلد ا - كتاب الوضوء فَهَؤُلَاءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا : روایت نمبر ۲۳۳ میں یہ جو آیا ہے: قَالَ أَبُوْ قِلَابَةَ فَهَؤُلَاءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا اس واقعہ کی تفصیل کتاب الجہاد اور کتاب المغازی میں ملاحظہ ہو۔خلاصہ اس کا یہ ہے: عکل یا عربیہ قبیلہ کے کچھ لوگ مدینہ میں آئے اور وہ بظاہر اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد انہوں نے ظاہر کیا کہ مدینہ کی آب و ہوا اور خوراک ان کے ناموافق ہے اور وہ بیمار ہو گئے ہیں۔انہوں نے اونٹوں کا مطالبہ کیا: قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْغِنَا رِسُلًا ہمیں اونٹوں کے دودھ پینے کی عادت ہے۔عرب لوگ بعض بیماریوں کا علاج اونٹ کے پیشاب اور دودھ سے کیا کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ایسا بخار ہوا تھا جس سے ان کے پیٹ پھول گئے تھے۔چہروں کے رنگ زرد پڑ گئے تھے۔ان کے جسم بھی لاغر ہو گئے تھے۔انہوں نے اپنے علاج کے لئے اونٹنیاں مانگیں۔آپ نے فرمایا : میرے پاس یہاں تو کوئی اونٹ نہیں۔صدقہ کے اونٹ کے میل کے فاصلہ پر ہیں ، وہاں چلے جاؤ۔چنانچہ وہ وہاں گئے اور جب اچھے ہو گئے تو وہ اونٹ ہانک کر لے گئے اور آپ کے چرواہے نے جس کا نام بیسار تھا، ان کا تعاقب کیا تو انہوں نے اس کو پکڑ کر مارڈالا۔نہ صرف مارڈالا بلکہ پہلے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور اس کی آنکھیں اور اس کی زبان میں کانٹے چھو چھو کر چھلنی کر دیا اور اس طرح سخت اذیت دے کر اس کو ہلاک کیا۔اس وقت تک عرب کے عام رواج کے مطابق قصاص کے قانون پر عمل درآمد ہوتا تھا۔اس لئے ان سے وہی سلوک کیا گیا۔بعد میں جب إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِيْنَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ (المائدة: ۳۴) کی آیت نازل ہوئی تو ایسی سزاؤں کی ممانعت کردی گئی اور یہ واقعہ شرعی حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ابو قلابہ کسی مسئلہ کے جواز کے متعلق رائے نہیں دے رہے۔بلکہ جو اصل واقعہ ہوا تھا اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور ان کے جرم گئے ہیں۔کفر بھی ایک جرم تھا مگر کفر وارتداد کی وجہ سے ان کو یہ سزا نہیں دی گئی۔ان امور کی تفصیل انشاء اللہ اپنے محل پر ہوگی۔بَاب ٦٧ : مَا يَقَعُ مِنَ النَّجَاسَاتِ فِي السَّمْنِ وَالْمَاءِ گھی اور پانی میں جو پلید چیزیں پڑ جائیں وَقَالَ الزُّهْرِيُّ لَا بَأْسَ بِالْمَاءِ مَا لَمْ اور زہری کہتے تھے پانی میں کوئی حرج نہیں جب تک يُغَيّرْهُ طَعْمٌ أَوْ رِيحٌ أَوْ لَوْنٌ وَ قَالَ که مزایا بُو یا رنگ اس کو بدلا نہ دے۔حماد نے کہا کہ حَمَّادٌ لا بَأْسَ بِرِيْشِ الْمَيْتَةِ وَقَالَ مردار کے پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔الزُّهْرِيُّ فِي عِظَامِ الْمَوْتَى نَحْوَ الْفِيْلِ زُہری نے ہاتھی وغیرہ جیسے مردہ جانوروں کی ہڈیوں وَغَيْرِهِ أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ سَلَفِ کے متعلق کہا کہ میں نے پہلے علماء میں سے بعض الْعُلَمَاءِ يَمْتَشِطُونَ بِهَا وَيَدَّهِنُوْنَ فِيْهَا لوگوں کو دیکھا ہے، جو اُن سے کنگھی کرتے تھے اور ان