صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 315
صحيح البخاری جلد ا ۳۱۵ ۴- كتاب الوضوء ٢٣٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا :۲۳۴ ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ابوالتیاح یزید بن حمید حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى بتلایا۔انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ پیشتر اس کے کہ مسجد الْمَسْجِدُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ۔بنائی جاتی بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔اطرافه: ٤۲۸، ٤۲۹، ۱۸۶۸، ۲۱۰۶، ۲۷۷۱، ۲۷۷٤، ۲۷۷۹، ۳۹۳۲ تشریح : أَبْوَالُ الْإِبِلِ وَالدَّوَاتِ وَالْغَنَمِ وَمَرَابِضُهَا : یہ ایک پانچویں سہولت ہے جو شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے گوالیہ اور زمیندار طبقہ کے لئے دی ہے۔یہ لوگ عموما ایسی جگہوں میں رہتے ہیں جہاں جانوروں کا پیشاب اور گو بر ہوتا ہے۔اس لئے وہاں ستھری جگہ دیکھ کر نماز پڑھ لے اور بے جا شکوک میں نہ پڑے۔صَلَّى أَبُو مُوسَى فِي دَارِ البَرِيدِ : دار البرید کونہ میں ایک سرائے تھی۔خلفاء کے پیغامبر اورا پیچی وہاں ٹھہرا کرتے تھے۔اس لئے اس کا نام دار البرید مشہور ہو گیا۔برید کے معنی اینچی ، پیغامبر اور برید بارہ میل کی مسافت کو بھی کہتے تھے۔۱۲ میل پر ڈاک تبدیل ہوا کرتی تھی۔یہ سرائے کوفہ کے ایک کنارے پر تھی اور اس کے قریب ہی ایک بیابان بھی تھا۔جہاں شہر کے جانور چرا کرتے تھے۔حضرت ابو موسیٰ نے وہیں صاف ستھری جگہ دیکھ کر نماز پڑھی اور اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ وہ مشکوک جگہ ہے۔فقہاء نے ایک یہ بحث اٹھائی ہے: آیا نجاست دور کر کے طہارت حاصل کرنا نماز کے لئے بطور شرط کے ہے جس کے پورا ہونے کے ساتھ نماز درست ہوتی ہے یا بطور خود ایک علیحدہ ضروری امر ہے، جس کا براہ راست نماز کے ساتھ ایسا لازم وملزوم کا تعلق نہیں جس طرح وضو کا ؟ جو لوگ اس کو نماز کے لئے شرط نہیں مانتے وہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کے اس عمل سے اور نیز اس صحابی کے عمل سے جو مجروح ہونے کی حالت میں نماز پڑھتارہاتھا استدلال کرتے ہیں۔( فتح الباری جزء اول صفحه ۴۳۷) یہاں پیشاب، گوبر اور لید یا ناپاک ہونے کا قطعا سوال نہیں۔بلکہ ضرورت وقت اور تقاضائے حالات کا سوال ہے۔بیماری کی مجبوری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کو اونٹ کا پیشاب بطور علاج کے استعمال کرنے کی اجازت دی۔اس اجازت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پیشاب طیب و حلال شئے ہے۔کسی استثنائی حالت سے قاعدہ کلیہ کا استنباط کرنا غلط طریقہ ہے، یہ نکتہ سمجھانے کے لئے امام بخاری باب مذکورہ کے ذیل میں روایت ۲۳۳لا ئے ہیں اور روایت ۲۳۴ سے بھی یہی سمجھانا مقصود ہے کہ شروع میں جب مدینہ میں کوئی مسجد نہ تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجبوراً بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھنی پڑی۔روایت نمبر ۲۲۶ کے پیش نظر حضرت ابو موسیٰ اشعری کا یہ حوالہ بھی قابل غور ہے۔