صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 313
صحيح البخاری جلد ا ۴- كتاب الوضوء ہم کو یہ نہیں دیکھنا کہ مسائل چھوٹے تھے یا بڑے۔بلکہ اس روح حریت و اخلاص کو دیکھنا ہے، جو اُن کے اقوال و اعمال کے پیچھے کام کر رہی تھی۔طہارت وغیرہ مسائل کے متعلق پوچھنے پوچھوانے کو پست ذہنیت ہی بے شرمی کہے تو کہے مگر ترقی یافتہ ذہنیت اس کو نظر استحسان سے دیکھے گی۔صحابہ کا پہلا نقطہ نظر یہ تھا کہ ظاہر و باطن میں پاک وصاف ہونا ضروری ہے اور اسی دائرہ میں وہ اپنی آزادانہ روح کا اظہار کرتے تھے۔پھر جیسے جیسے دائرہ عمل وسیع ہوتا گیا، ویسے ویسے وسعت کے ساتھ وہ اس آزادانہ روح کا اظہار کرتے گئے۔یہاں تک کہ علم تشریح و طب وغیرہ علوم میں ان کی تحقیقات نہایت وسعت نظر اور علو ہمت پر دلالت کرتی ہے۔باب ٦٥ إِذَا غَسَلَ الْجَنَابَةَ أَوْ غَيْرَهَا فَلَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ جب جنابت وغیرہ کو دھوئے اور اس کا نشان نہ جائے : ۲۳۱ : حَدَّثَنَا مُؤْسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۳۱ ہم سے موسیٰ بن اسماعیل منقری نے بیان کیا، الْمِنْقَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ کہا: عبد الواحد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ سَمِعْتُ عمرو بن میمون نے ہمیں بتلایا۔کہا: میں نے سلیمان سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ فِي القَوْبِ تُصِيبُهُ بن سیار سے سنا۔وہ اس کپڑے کے متعلق جس کو الْجَنَابَةُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَغْسِلُهُ جنابت لگ جائے ، کہتے تھے کہ حضرت عائشہ نے کہا: مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ يَخْرُجُ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے اس کو دھویا کرتی إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِيْهِ بُقَعُ الْمَاءِ تھی۔پھر آپ نماز کو نکلتے اور دھونے کا نشان اس میں ہوتا۔( یعنی ) پانی کے دھبے۔اطرافه ،۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۲ ۲۳۲ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ قَالَ :۲۳۲ ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا: زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا : عمرو بن میمون مَيْمُوْنِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بن مہران نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے سلیمان بن یسار يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ سے سلیمان نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ الْمَنِيَّ مِنْ تَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بی ﷺ کے کپڑے سے منی دھویا کرتی تھیں۔( کہتی وَسَلَّمَ ثُمَّ أَرَاهُ فِيْهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا۔تھیں : ) پھر میں اس میں کوئی دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی۔اطرافه: ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱