صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 312
صحيح البخاری جلد ا ۳۱۲ ۴- كتاب الوضوء قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا نے حضرت عائشہ سے سنا۔نیز ہم سے مسدد نے عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْن بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں يَسَارٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِي نے کہا: عمرو بن میمون نے سلیمان بن یسار سے يُصِيبُ التَّوْبَ فَقَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے منی کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو مِنْ تَوْبِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لگ جاتی ہے تو انہوں نے کہا : میں اسے رسول اللہ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ ﷺ کے کپڑے سے دھو دیا کرتی تھی اور آپ نماز کو نکلتے اور دھونے کا نشان آپ کے کپڑے میں الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ بُقَعُ الْمَاءِ۔اطرافه (۲۲۹، ۲۳۱، ۲۳۲ ہوتا۔(یعنی) پانی کے دھبے۔تشریح : : غَسْلُ الْمَنِيِّ وَ فَرُكُهُ باب مذکور میں بیان کردہ مسئلہ ایسا ہے، جس کا ہر سلیم الفطرت انسان جو طہارت کو پسند کرتا ہے بالطبع پابند ہوتا ہے۔سوائے ان کے جو نا پاک طبع ہوں۔نفس مسئلہ کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔لیکن ایک امر جو امام بخاری کے طریقہ بحث و تمحیص اور استنباط پر روشنی ڈالتا ہے، اس کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ایک ہی واقعہ مختلف راویوں سے نقل کیا ہے اور حضرت عائشہ سے سننے یا ان سے پوچھنے کے متعلق جو اختلاف تھاوہ دور کر دیا ہے اور اس ضمن میں دوسرا باب قائم کر کے ایک اور مسئلہ بھی بیان کیا ہے۔یعنی اگر دھونے کا نشان رہے تو کچھ حرج نہیں؛ نماز پڑھ لے۔حضرت عائشہ کے قول کے راوی سلیمان بن یسار ہیں۔روایت نمبر ۲۲۹ میں ان کے یہ الفاظ ہیں : عَنْ عَائِشَةَ یعنی حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔روایت نمبر ۲۳۰ میں دور دایتیں منقول ہیں۔ایک میں سَمِعْتُ عَائِشَةَ یعنی میں نے حضرت عائشہ سے سنا اور دوسری میں ہے سَأَلْتُ عَائِشَةَ یعنی میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا۔روایت ۲۳۱ میں ہے: قَالَتْ عَائِشَةُ یعنی حضرت عائشہ کہتی تھیں۔روایت نمبر ۲۳۲ میں ہے : عن عائشة یعنی حضرت عائشہ سے مروی ہے۔امام بخاری نے اس روایت کو مختلف سندوں سے اس لئے نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل وغیرہ کا یہ خیال ہے کہ سلیمان نے حضرت عائشہ سے نہ خود پوچھا نہ خود سنا۔بلکہ کسی عورت سے پوچھوایا۔امام بخاری نے ان کے اس خیال کی تردید کی ہے اور امام مسلم نے بھی ان سے اتفاق کیا ہے کہ سلیمان نے حضرت عائشہ سے خود سنا۔صحابہ ضروری مسائل کی تحقیق میں بے جا شرم و حیا نہیں کرتے تھے۔آزاد قو میں تحقیق کے ضمن میں شرم و حیا کے جذبات کو معیوب نہیں سمجھتیں اور محکوم قوم کی ذہنیت اس کو جائے عار و شرم گردانتی ہے۔آج سے سینکڑوں برس پہلے بھی یہی حالت تھی اور اب بھی یہی ہے وہ قومیں جن کا ذہنی ارتقاء نمایاں ہوتا ہے تحقیق و اکتشاف کے دوران میں جنسین کے شرم و حیا کے سوال کو بالکل نظر انداز کر دیتی ہیں اور ان کے مقابل مغلوب قومیں بے جا شرم و حیا کا شکار ہو جاتی ہیں اور جنس اناث تو خطرناک بیماریوں میں بھی مبتلا ہو کر اپنی حیا کے احساس پر غالب نہیں آسکتیں۔صحابہ کے ذہنی ارتقاء کا مقابلہ کرتے ہوئے