صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 311
صحيح البخاری جلد ا -۴- كتاب الوضوء الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي قَالَ وَقَالَ أَبِي ثُمَّ دو اور جب بند ہو جائے تو خون اپنے بدن سے دھو اور تَوَفَّنِيْ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيْءَ ذَلِكَ نماز پڑھ لو۔(ہشام) کہتے تھے: میرے باپ نے یہ حدیث یوں بیان کی۔پھر ہر نماز کے لئے وضو کر لیا الْوَقْتُ۔اطرافه: ٣٠٦، ۳۲۰، ۳۲۵، ۳۳۱ کر، یہاں تک کہ پھر وہی وقت آجائے۔تشریح عسل الدم: یہ ایک تیسری مثال ہے عملی سہولت کی جو شارع اسلام نے دی ہے۔استحاضہ کی حالت غَسْلُ میں بیمار کو جائز ہے کہ وہ وضو کر کے نماز پڑھتی رہے۔جب دوسری نماز کا وقت ہو تو پھر وضو کر لے مسلسل بول یعنی پیشاب کے قطرہ قطرہ آنے یا ہوا کے بار بار خارج ہونے کی بیماری میں بھی ایسا ہی کرے۔حَتَّى يَجِيءُ ذَلِكَ الْوَقْتُ : حدیث نمبر ۲۲۸ میں جو حَتَّى يَجِيْءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ کے الفاظ ہیں، ان سے مراد حیض کا معین وقت ہے۔اس میں نماز ترک کر دے اور حیض کا وقت ختم ہونے پر نہانے دھونے کے بعد پھر اسی طرح تازہ وضو کے ساتھ نماز پڑھے۔باب ٦٤ غَسْلُ الْمَنِي وَفَرْكُهُ وَغَسْلُ مَا يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ منی کا دھونا اور اسے مل کر دور کرنا اور اس کو بھی دھونا جو عورت سے لگ جائے :۲۲۹: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۲۲۹ ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ ( بن عَبْدُ اللهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ مبارک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: عمرو بن الْجَزَرِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ میمون جاری نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ سلیمان بن یار سے سلیمان نے حضرت عائشہؓ سے تَوْبِ النَّبِيِّ ﷺ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ روایت کی۔وہ کہتی تھیں: میں نبی ﷺ کے کپڑے سے جنابت دھوتی۔آپ نماز کے لئے نکلتے اور پانی وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ۔اطرافه ۲۳۰، ۲۳۱، ۲۳۲ کے دھبے آپ کے کپڑے پر ہوتے۔٢٣٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۳۰: ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: یزید نے ہم يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ سُلَيْمَانَ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عمرو نے سلیمان بن قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ پیار سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔کہا کہ میں