صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxvii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxvii

صحيح البخارى ۱۷ دیباچه اور بھائی کے ساتھ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ آئے اور ان کے لوٹنے کے بعد وہ تحصیل علم کے لئے یہیں رہ گئے۔هدى السارى مقدمة فتح البارى ذكر نسبه ومولده نیز ذکر سیرته وشمائله صفحه ۶۶۹-۶۷۱) امام موصوف نے صغرسنی میں ہی اپنی خداداد استعداد ذہنی کا اظہار کیا۔اُن کی قوت حافظہ و استحضار اور قوت موازنہ و تطبیق خارق عادت طور پر قوی تھی۔سبق لکھنے یا یاد کرنے کی انہیں قطعاً ضرورت نہ ہوتی۔متعدد بار ان کے ہم مکتبوں اور ہم عصروں نے احادیث کی سندیں تبدیل کر کے اُن کے حافظہ کا امتحان لیا۔مگر کبھی انہوں نے خطا نہیں کی۔یہاں تک کہ ان کے اساتذہ بھی اپنی مسندیں صحیح کرنے کے لئے انہیں دیتے۔شارحین نے کئی ایک حیرت انگیز واقعات بیان کئے ہیں۔جن کے اعادہ کی یہاں چنداں ضرورت نہیں۔خود اس کتاب کے مطالعہ سے ان کی حیرت انگیز استعداد ذہنی کا پتہ لگ جائے گا۔(هدى) السارى مقدمة فتح البارى ذكر جمل من الأخبار الشاهدة لسعة حفظه صفحه ۶۷۹) ان کی قوت حافظہ وموازنہ کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کم و بیش چھ لاکھ روایتیں مع ان کی سندوں کے انہیں یاد تھیں۔جن میں سے بڑی تدقیق تحقیق اور انتہائی چھان بین کے بعد انہوں نے اپنی اس تصنیف کے لئے چار ہزار کے قریب مستند روایتیں منتخب کیں۔ان میں سے دو ہزار سات سو اکسٹھ صحابہ کرام کی موصول روایتیں ہیں۔یعنی ان کا سلسلہ اسناد براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے اور اگر مکرر روایتوں کو ان کے ساتھ شمار کیا جائے تو کل سات ہزار تین سوستانو میں روایتیں ہوتی ہیں اور اگر مختلف حوالہ جات کو بھی شمار کیا جائے تو یہ کل نو ہزار بیاسی روایتیں ہوں گی۔یہ تعداد شیخ الاسلام امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے حساب کی رو سے بنتی ہے اور جہاں تک میں نے مقابلہ کر کے دیکھا ہے، انہوں نے اپنے شمار میں نہایت ضبط سے کام لیا ہے اور ہر ایک قسم حدیث جدا جدا گئی ہے۔ہیپ (دیکھئے مقدمہ فتح البارى الفصل العاشر في عد أحاديث الجامع صفر ۶۵۴، ۶۵۷، ۶۵۹) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و صیح اور مستند روایات کی تخصیص و ترتیب میں پورے سولہ برس لگے اور جب انہیں تحقیق سے کسی روایت کی صحت ثابت ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھ کر دُعائے استخارہ کرنے کے بعد اُسے اپنی کتاب میں درج کرتے۔(هدى السارى مقدمة فتح البارى۔ذكر فضائل الجامع الصحيح۔صفر ٦٨٣) ان کے کاتب محمد بن ابو حاتم کہتے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ سفر و حضر میں رہے۔امام موصوف رات کو بعض وقت پندرہ پندرہ میں میں دفعہ اُٹھتے اور چقماق کے ذریعہ سے دیا جلاتے اور احادیث کے متعلق کچھ نوٹ کرتے اور پھر لیٹ جاتے۔(هدى السارى مقدمة فتح البارى ذكر سيرته وشمائله۔صفر ۶۷۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل و دماغ کے اندر ہی اندر روایتوں کے متعلق غور و فکر تحقیق و تدقیق، جرح و قدح اور موازنہ و مقابلہ کا تانتا بندھا رہتا تھا اور یہ سلسلہ تفکیر بحالت خواب بھی جاری رہتا۔جو نہی کسی امر کے متعلق انہیں انشراح ہوتا اسے قلم بند کرتے۔سفروں کے اثناء میں آپ پر ایک وقت ایسا بھی آیا ہے کہ وطن سے خرچ نہیں پہنچا اور آپ نے دو دو دن زمین کے گھاس پات کھا کر خاموشی سے چنانچہ موجودہ ایڈیشن میں فتح الباری کے مطابق احادیث کے نمبر لگائے گئے ہیں۔(مرتب)