صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 309
صحيح البخاری جلد ا ٣٠٩ ۴- كتاب الوضوء آپ نے ان کو اشارہ کر کے قریب کھڑا کر لیا تا آپ کو پیچھے سے آڑ میں رکھیں۔ وہ اس طرف پیٹھ پھیر کر کھڑے ہو گئے۔ جہاں سے آنے جانے والوں کی نظر پڑنے کا احتمال ہو سکتا تھا۔ اس سے آپ کی شرم وحیا کا پتہ چلتا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۴۲۹) الفاظ وَالتَّسَتُرُ بِالْحَائِطِ سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ دیواروں کی اوٹ میں تھے۔ حضرت حذیفہ کو بطور مزید احتیاط کے کھڑا کیا کہ کوئی اس طرف نہ آئے۔ باب ٦٢ : الْبَوْلُ عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ کسی قوم کے گھورے کے پاس پیشاب کرنا ٢٢٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ :۲۲۶ ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا: شعبہ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے وَائِلٍ قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ابو وائل سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت ابوموسیٰ يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَقُوْلُ إِنَّ بَنِي اشعری پیشاب کی وجہ سے سختی کیا کرتے تھے اور کہتے إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ تھے کہ بنو اسرائیل کی عادت تھی کہ جب ان میں سے أَحَدِهِمْ قَرَضَهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَيْتَهُ کسی کے کپڑے میں ( پیشاب ) لگ جاتا تو وہ اس کو أَمْسَكَ أَتَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کتر ڈالتا۔ حضرت حذیفہ نے کہا: کاش ابو موسیٰ رک وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا ۔ جاتے ۔ رسول اللہ ﷺ بعض لوگوں کے گھورے کے پاس آئے اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ اطرافه ٢٢٤، ٢٢٥، ٢٤٧١۔ تشریح : يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ: اس باب میں رویت مذکور بالاکرامام بخاری نے آخر میںاپنا مقصد واضح کر دیا ہے کہ پیشاب وغیرہ کے متعلق اس قسم کا تشدد کرنا کہ کھڑا ہو کر نہ کرے۔ یا فلاں جگہ بیٹھ کر کرے اور پیشاب کا چھینٹا اتنا پڑے تو کوئی حرج نہیں اور اتنا پڑ جائے تو نماز جائز نہیں۔ یہ سب تکلیف مالا طاق ہے۔ شارع اسلام نے جہاں یہ حکم دیا ہے کہ انسان صاف ستھرا اور پاکیزہ رہے وہاں یہ بھی حکم دیا ہے کہ تو ہمات میں پڑ کر اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالے۔ بلکہ ہر امر میں میانہ روی اختیار کرے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کھڑے ہو کر پیشاب کرنا نہایت برا جانتے نے اور اگر کسی کو دیکھ لیتے تو اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے اور کہتے کہ بنی اسرائیل اس امر میں اس قدر احتیاط کرتے تھے کہ وہ جس جگہ پھینٹیں پڑ جائیں اتنا کپڑاکٹر ڈالتے تھے۔ لیکن یہ افراط کوئی دلیل نہیں کہ وہ لوگ بہت پاک تھے۔ جب انسان تھے