صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 308
صحيح البخاری جلد ا ۳۰۸ - كتاب الوضوء تشریح : البول قائما : اس باب میں جو روایت بیان کی گئی ہے اس میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا ذکر ہے۔بیٹھنے کے متعلق کسی خاص روایت لانے کی ضرورت نہ تھی۔کیونکہ وہ ایک طبعی اور عام بات ہے کہ انسان جب قضائے حاجت کے لئے بیٹھتا ہے تو پیشاب بھی کرتا ہے۔اس لئے اس کے متعلق کسی روایت کے لانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔حضرت حذیفہ کی یہی روایت اگلے باب میں بھی ہے۔وہاں یہ الفاظ ہیں : فَانتَبَذَتُ یعنی میں ایک طرف ہٹ گیا۔پانی منگوایا فَتَوَضًا اور وضو کیا۔یعنی استنجا کرنے کے بعد۔نرم جگہ پیشاب کرنے سے چھینٹیں نہیں پڑتیں۔بعض حالات میں انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرے۔باب ٦١ اَلْبَوْلُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَالتَّسَتُرُ بِالْحَائِطِ اپنے ساتھی کے نزدیک پیشاب کرنا اور دیوار کی اوٹ لینا وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيُّ ٢٢٥ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۲۲۵ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي جریر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے تو یہ ( بھی ) دیکھا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى فَأَتَى ہے کہ میں اور نبی ﷺ اکٹھے چلے جارہے تھے۔آپ سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ كَمَا بعض لوگوں کے گھورے ( کوڑے کی جگہ ) پر گئے جو کہ يَقُوْمُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ ایک باغ کی) دیوار کے پیچھے تھا اور اس طرح فَأَشَارَ إِلَيَّ فَجِئْتُهُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگے جیسا کہ تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے۔میں آپ سے ہٹ کر ایک طرف ہو گیا۔آپ نے مجھے اشارہ سے بلایا اور میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔حَتَّى فَرَغَ۔یہاں تک کہ آپ فارغ ہوئے۔اطرافه: ٢٢٤، ٢٢٦، ٢٤٧١۔تشریح : البَولُ عِندَ صَاحِبِه: آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کے تعلق مشہور ہے کہ آپ قضائے حاجت کے لئے دور جایا کرتے تھے حتی کہ پیشاب کے وقت بھی کسی نہ کسی چیز کی آڑ لیتے۔یہ ایک خاص واقعہ ہے۔آپ مسلمانوں کے بعض ضروری کاموں میں مشغول تھے۔اسی اثنا میں پیشاب کی حاجت ہوئی اور آپ مجلس سے اُٹھ کر قریب کے گھورے ( کوڑا کی جگہ) پر گئے۔سامنے ایک باغ کی دیوار تھی۔حضرت حذیفہ جو آپ کے ساتھ گئے تھے،