صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 307
صحيح البخاری جلد ا فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا وَلَمْ يَغْسِلْهُ۔بِمَاءٍ طرفه ٥٦٩٣۔- كتاب الوضوء فَنَضَحَهُ کپڑے پر پیشاب کر دیا۔اس پر آپ نے پانی منگوایا اور اس پر چھڑک دیا اور اسے نہ دھویا۔شریح : بَولُ الصّبْيَانِ : فَإِنَّمَا بُعِثْتُمُ مُيَسِرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسّرِينَ کی ایک اور مثال دی۔اگر بچوں کے پیشاب کی وجہ سے ہر بار کپڑے دھونے اور بدلنے کا حکم ہوتا تو والدین کو مصیبت پڑ جاتی اور مائیں تو شاید کبھی بھی نماز نہ پڑھ سکتیں۔اسلام ایک عملی مذہب ہے اور شارع اسلام نے اعمال میں جس قدر سہولتیں دی تھیں۔آج کل کے مدعیان اسلام نے مسائل کو پیچیدگیوں میں ڈال کر بہت سی وقتیں اور دشواریاں پیدا کر دی ہیں۔یہاں تک کہ ان کی ان حرکتوں نے نماز جیسی پاک چیز لوگوں سے چھڑا دی ہے۔امام بخاری نے اسی وجہ سے یہ باب باندھے ہیں۔اسلام حد اعتدال چاہتا ہے۔نہ کہ افراط و تفریط۔قبروں کے متذکرہ بالا واقعہ کی بنا پرختی شروع کر دینا شارع اسلام کے منشاء و حکم کے برخلاف ہے۔بعض شواذ روایتوں کی بناء پر لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں امام احمد بن حنبل نے فرق کیا ہے۔یعنی لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکنا کافی ہے اور لڑکی کے پیشاب پر پانی بہانا چاہیے۔مگر امام بخاری نے یہ فرق نہیں کیا اور یہی مذہب ہے، اکثر آئمہ کا۔یعنی انہوں نے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھا۔دونوں پر پانی چھڑک دیا جائے یا پانی بہا دیا جائے۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۴۲۴ - ۴۲۵) نَفَخَ اس کے معنی ہیں چھڑ کنا۔کبھی آپ نے پانی بہایا اور کبھی چھر کے پر کفایت کی ہے۔جیسی ضرورت ہو، کیا جائے۔چھڑکنے سے مقصد صرف یہ ہے کہ اصل حکم طہارت نظر سے غائب نہ ہو۔لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ : یعنی ایسا بچہ ہو و کھانا نہ کھاتا ہو صرف دودھ پی رہا ہواور اگر اس سے بڑا بچہ پیشاب کرے تو کپڑے یا جسم دھویا جائے۔باب ٦٠ : الْبَوْلُ قَائِمًا وَّ قَاعِدًا پیشاب کرنا؛ کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھ کر بھی ٢٢٤: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۲۴ ہم سے آدم نے بیان کیا، (کہا: ) شعبہ نے عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے نبی ﷺ ایک قوم سے گھورے ( یعنی کوڑے کی جگہ) سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَجِئْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ۔اطرافه ٢٢٥، ٢٢٦، ٢٤٧١۔پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔پھر پانی منگوایا تو میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا اور آپ نے وضو کیا۔