صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 307 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 307

صحيح البخاری جلد ا ٣٠٧ ۴- كتاب الوضوء فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ نے پانی منگوایا وَلَمْ يَغْسِلْهُ ۔ طرفه: ٠٥٦٩٣ اور اس پر چھڑک دیا اور اسے نہ دھویا۔ تشريح : بَولُ الصِّبْيَانِ: فَإِنَّمَا يُعِلْتُمْ مُسْرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسّرِينَ کی ایک اور مثال دی۔ اگر بچوں کے پیشاب کی وجہ ی وجہ سے ہر بار کپڑے دھونے اور بدلنے کا حکم ہوتا تو والدین کو مصیبت پڑ جاتی اور مائیں تو شاید کبھی بھی نماز نہ پڑھ سکے ی نماز نہ پڑھ سکتیں۔ اسلام ایک عملی مذہب ہے اور شارع اسلام نے اعمال میں جس قدر سہولتیں دی تھیں ۔ آج کل کے مدعیان اسلام نے مسائل کو پچیدگیوں میں ڈال کر بہت سی وقتیں اور دشواریاں پیدا کر دی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی ان حرکتوں نے نماز جیسی پاک چیز لوگوں سے چھڑا دی ہے۔ امام بخاری نے اسی وجہ سے یہ باب باندھے ہیں۔ اسلام ہے۔ امام حد اعتدال چاہتا ہے۔ نہ کہ افراط و تفریط ۔ قبروں کے متذکرہ بالا واقعہ کی بنا پر سختی شروع کر دینا شارع اسلام کے منشاء وحکم کے برخلاف ہے۔ بعض شواذ روایتوں کی بناء پر لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں امام احمد بن حنبل نے فرق کیا ہے۔ یعنی لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکنا کافی ہے اور لڑکی کے پیشاب پر پانی بہانا چاہیے۔ مگر امام بخاری نے یہ فرق نہیں کیا اور ہے۔ مگر امام یہی مذہب ہے، اکثر آئمہ کا۔ یعنی انہوں نے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھا۔ دونوں پر پانی چھڑک دیا جائے یا پانی بہا دیا جائے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۲۴ - ۴۲۵ ) یا جائے۔ نَفَخَ اس کے معنی ہیں چھڑ کنا۔ کبھی آپ نے پانی بہایا اور کبھی چھڑ کنے پر کفایت کی ہے۔ جیسی ضرورت ہو، کیا جائے۔ چھڑکنے سے مقصد صرف یہ ہے کہ اصل حکم طہارت نظر سے غائب نہ ہو۔ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ : یعنی ایسا بچہ ہو جو کھانا نہ کھا تا ہو صرف دودھ پی رہا ہو اور اگر اس سے بڑا بچہ پیشاب کرے تو کپڑے یا جسم دھویا جائے۔ باب ٦٠ : الْبَوْلُ قَائِمًا وَ قَاعِدًا پیشاب کرنا؛ کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھ کر بھی ٢٢٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۲۴ ہم سے آدم نے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی ۔ وہ کہتے سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ تھے نبی ﷺ ایک قوم کے گھورے ( یعنی کوڑ عليها فَجِئْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ۔ اطرافه ٢٢٥، ٢٢٦، ٢٤٧١۔ کوڑے کی جگہ ) پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ پھر پانی منگوایا تو میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا اور آپ نے وضو کیا۔