صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 306
صحيح البخاری جلد ا - كتاب الوضوء نے ان کو روکتے ہوئے فرمائے : فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُسَرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا الْمُعَتِرِينَ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صحابہ کو تلقین فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کی اصلاح میں نرمی اور آسانی اختیار کرنی چاہیے۔یہاں اس روایت میں ایک عملی ثبوت ہے کہ آپ لوگوں کو جو کام کرنے کے لئے فرماتے وہ خود بھی ضرور کرتے۔یہ ابواب سابقہ باب سے دو طرح کی مناسبت رکھتے ہیں۔ایک تو یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات میں اسوہ حسنہ تھے۔جیسا کہ یہ حکم دیا: يَسرُوا وَلَا تُعَشِرُوا۔اور جب موقع ہوا تو آپ نے خود عملاً آسانی اور نرمی کا سلوک کیا۔مگر پیشاب کی نجاست کو جہاں تک ممکن ہوا، دور کیا اور اس سے ملوث ہونے کو ایک گناہ سمجھا۔اس لئے آپ کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ آپ اس بارے میں تساہل سے کام لیتے ہوں اور دوسری مناسبت ظاہر ہی ہے کہ پیشاب دھونے کا بَاب ٥٩ : بَوْلُ الصِّبْيَانِ مضمون ہے۔بچوں کا پیشاب کرنا ۲۲۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۲۲ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْن عُرْوَةَ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنَّهَا ہے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ ام المومنین سے روایت کی۔وہ کہتی وَسَلَّمَ بِصَبِيّ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا تھیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ۔اطرافه ٥٤٦٨، ٢ 7700۔7۔" 1 ۲۲۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۲۳ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عُبَيْدِ اللَّهِ بْن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أُمّ ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ سے، قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنِ أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنِ لَّهَا عبد الله نے محسن کی بیٹی حضرت ام قیس سے روایت صَغِيْرٍ لَّمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ کی کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو کہ جو کھانا نہیں کھاتا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُوْلُ تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائیں۔رسول اللہ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجْرِهِ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھایا۔اس نے آپ کے کچھ