صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 305
صحيح البخاری جلد ا ۳۰۵ - كتاب الوضوء وَهَرِيْقُوْا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلًا مِّنْ مَّاءٍ أَوْ اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا ذَنُوْبًا مِّنْ مَّاءٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُّيَسِرِيْنَ وَلَمْ بہادو۔سجل کا لفظ (کہا) یا ذَنوب کا اور تم صرف اس لئے مبعوث کئے گئے ہو کہ آسانی کرنے والے تُبْعَثُوا مُعَسِرِيْنَ۔طرفه: ٦١٢٨۔بنو اور تم سختی کرنے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے۔٢٢١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا :۲۲۱ ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: یحی بن سعید نے ہم سے قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ عَنِ النَّبِيَ بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔وہ نبی ہے کے متعلق روایت کرتے تھے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ٢١٩، ٦٠٢٥۔بَاب : يُهْرِيْقُ الْمَاءُ عَلَى الْبَوْلِ پیشاپ پر پانی بہا دیا جائے وَحَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ نیز ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا: سلیمان نے عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ ہمیں بتلایا۔انہوں نے یحی بن سعید سے روایت کی۔ابْنَ مَالِكِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ فَرَجَرَهُ النَّاسُ فَتَهَاهُمُ تا۔وہ کہتے تھے: ایک گنوار آیا اور اس نے مسجد کے ایک طرف پیشاب کیا۔لوگوں نے اسے جھڑ کا مگر نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى ﷺ نے انہیں منع کیا۔جب وہ پیشاب کر چکا تو بی بَوْلَهُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ نے فرمایا کہ ایک ڈول پانی بہا دیا جائے۔بِذَنُوْبِ مِنْ مَّاءٍ فَأُهْرِيْقَ عَلَيْهِ۔چنانچہ وہ اس جگہ بہا دیا گیا۔صلى تشریح: صَبُّ الْمَاءِ عَلَى الْبَول: سابقہ باب ( نمبر ۵۷) کے ذیل میں حضرت انس کی روایت بیان کی ہے اور باب ( نمبر ۵۸ ) میں حضرت ابو ہریرہ کی اور پھر حضرت انس کی جو کئی بن سعید نے نقل کی ہے۔ان دونوں کا مضمون ایک ہے۔یعنی لوگوں نے اس بدوی کو ڈانٹا۔حضرت انس کے الفاظ یہ ہیں: فَنَهَا هُمُ النَّبِيُّ ﷺ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روک دیا اور حضرت ابو ہریرہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نقل کئے ہیں جو آپ