صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 304 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 304

صحيح البخاری جلد ا اله ۴- كتاب الوضوء أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہوئے وَسَلَّمَ رَأَى أَعْرَابِيًّا يَبُوْلُ فِي الْمَسْجِدِ ہمیں بتلایا کہ نبی ﷺ نے ایک بدوی کو مسجد میں فَقَالَ دَعُوْهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ دَعَا بِمَاءٍ پیشاب کرتے دیکھا تو آپ نے فرمایا: اسے رہنے فَصَبَّهُ عَلَيْهِ۔ اطرافه: ٢٢١، ٦٠٢٥ دو۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اُسے وہاں بہا دیا۔ تشريح : حَتَّى فَرَغَ مِنْ بَوْلِهِ فِي الْمَسْجِدِ : بعض نے اس واقعہ سے ایک جواز کی صورت نکالی ہے اور وہ یہ کہ پانی میں اگر تھوڑی سی نجاست ہو تو بوجہ پانی کی پاکیزگی غالب ہونے کے وہ ناپاک نہیں ہو گا۔ مگر یہ اسی طرح کا مسئلہ ہے جس کی بحث روایت نمبر ۷۰ ا باب ۳۳ میں ہو چکی ہے۔ اس سے قطعاً کسی قسم کے جواز کا استدلال نہیں ہو سکتا۔ امام موصوف نے عنوان باب کے الفاظ نہایت احتیاط سے اختیار کئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدوی کو چھوڑ دینے اور پانی کے بہا دینے سے مذکورہ بالا جواز کی صورت نہیں نکلتی۔ امر مجبوری کی وجہ سے یہی ایک سہل علاج تھا کہ پانی بہا کر پیشاب کی نجاست ہلکی کر دی جاتی تا وہ جلد زمین میں جذب ہو جائے ۔ اس واقعہ سے جو بات نمایاں طور پر ہماری توجہ چتی ہے وہ یہ ہے کہ آ وجہ کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کن مشفقانہ اخلاق سے متصف تھے۔ کوئی مولوی ہوتا تو وہ شور مچاتا اور گالی گلوچ پر اتر آتا ۔ مگر آپ نے لوگوں کو اس پر سختی کرنے سے روک دیا اور اس کو پیشاب کرنے دیا اور ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے اسے فرمایا کہ یہ مسجدیں پیشاب وغیرہ کے لئے نہیں۔ بلکہ اللہ کے ذکر کے لئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۴۲۱) بَاب ٥٨ : صَبُّ الْمَاءِ عَلَى الْبَوْلِ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں پیشاب پر پانی ڈالنا ۲۲۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا ۲۲۰ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا: اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ انہوں نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ أَعْرَابِي فَبَالَ فِي نے مجھے بتلایا کہ حضرت ابوہ بتلایا کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: ایک بدوی الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ لَهُمُ اُٹھا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ اسے برا بھلا کہا۔ اس پر نبی ﷺ نے ان سے کہا: