صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 303
صحيح البخاری جلد ا ۳۰۳ ۴- كتاب الوضوء باب ۲۱۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۲۱۸ ہم سے محمد بن شنی نے بیان کیا، کہا: محمد بن قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ قَالَ خازم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: امش حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ روا: روایت کی ۔ وہ کہتے تھے : نبی ﷺ دو قبروں کے پاس إِنَّهُمَا لَيُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا سے گزرے اور فرمایا: انہیں تو عذاب دیا جا رہا ہے اور أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ کسی بڑے گناہ کی وجہ۔ وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ان وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ میں سے ایک تو پیشاب سے بچاؤ نہیں کیا کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔ پھر آپ نے کھجور کی تازہ أَخَذَ جَرِيدَةً رَّطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ شاخ لی اور درمیان سے اس کو دو ٹکڑے کر کے ہر ایک فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً قَالُوْا يَا قبر پر ایک ایک ٹکڑہ گاڑ دیا۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول رَسُوْلَ اللهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ لَعَلَّهُ اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: شاید ان سے يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا وَقَالَ تخفیف کی جائے، جب تک یہ نہ سوکھیں ۔ محمد بن مثنی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ نے کہا: وکیع نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ (اعمش نے) کہا: میں مثْلَهُ۔ نے مجاہد سے اسی طرح سنا ہے۔ اطرافه: ٢١٦، ١٣٦١، ١٣٧٨، ٦٠٥٢، 6055۔ باب ٥٧ : تَرْكُ النَّبِيِّ ﷺ وَالنَّاسِ الْأَعْرَابِيَّ حَتَّى فَرَغَ مِنْ بَوْلِهِ فِي الْمَسْجِدِ نبی ﷺ اور لوگوں کا بدوی کو چھوڑ دینا، یہاں تک کہ وہ مسجد میں پیشاب کر چکا ۲۱۹ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۱۹: ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ عَنْ سے ہمام نے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) اسحاق نے