صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 302
صحيح البخاری جلد ا ٣٠٢ ۴- كتاب الوضوء باب ٥٦ : مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْبَوْلِ پیشاب دھونے کے متعلق جو حکم آیا ہے وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور بی اے نے قبر والے کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنے لِصَاحِبِ الْقَبْرِ كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ پیشاب سے بچاؤ نہیں کیا کرتا تھا اور آپ نے وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَى بَوْلِ النَّاسِ۔ آدمیوں کے پیشاب کا ہی ذکر کیا۔ ۲۱۷ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۲۱۷ : ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ اسماعیل بن ابراہیم نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے کہا: حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي روح بن قاسم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عطاء بن ابی عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ میمونہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے مَالِكِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا تَبَرَّزَ ہوئے مجھے بتلایا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ جب لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ۔ حاجت کے لئے جنگل کو جاتے تو میں آپ کے لئے پانی لاتا اور آپ اس سے استنجاء کرتے ۔ اطرافه: ١٥٠، 15١، 153، 500۔ تشریح : غَسْلُ الْبَوْلِ: امام بخاری نے پیشاب دھونے کے متعلق باب باندھ کر ایک تو سابقہ حدیث کا حوالہ دیا ہے اور دوسرے حضرت انس کی روایت پیش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے وقت پانی سے استنجا کیا کرتے تھے۔ اس سے ان لوگوں کا رد کرنا مقصود ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پر اکتفاء کیا کرتے تھے۔ یہ صحیح نہیں۔ جنگل میں پانی نہ ملنے پر پر اگر کبھی ڈھیلے کو استعمال کرتے تو آپ بعد میں پانی سے استنجا کرتے۔ یہ مقصد ہے امام موصوف کا اس باب کے باندھنے سے۔ چنانچہ اس کے بعد ایک دوسرا باب باندھا ہے مگر اس کا کوئی عنوان قائم نہیں کیا۔ کیا۔ 71 ا۔ بلکہ سابقہ حدیث ہی دُھرا دی ہے تا پہلے باب کا مضمون واضح ہو جائے۔ وَلَمْ يَذْكُرُ سِوَى بَوْلِ النَّاس : پہلے باب کے عنوان میں یہ جو کہا: وَلَمْ يَذْكُرُ سِوَى بَوْلِ النَّاسِ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ نے لوگوں کو اپنے پیشاب ہی سے بچنے کی تاکید فرمائی تھی۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خود اس پر کار بند نہ ہوتے ۔ آپ جو کام کرنے کے۔ پ جو کام کرنے کے لئے لوگوں کو فرماتے وہ خود بھی ضرور کرتے تھے۔