صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 301 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 301

صحيح البخاری جلد ا ۳۰۱ ۴- كتاب الوضوء کر سکتا ہے۔وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي كَبِيرٍ : یہ آپ نے ان فعلوں کی ظاہری صورت کو مد نظر رکھ کر فرمایا اور پھر بلی کہ کر آپ نے نتائج کے اعتبار سے ان کو کبیرہ قرار دیا ہے۔لَا يَسْتَتِرُ مِن بوله کے یہ معنی بھی ہیں کہ پیشاب کرتے وقت لوگوں کے سامنے ننگ دھڑنگ بیٹھ جایا کرتا تھا۔پرواہ نہیں کرتا تھا۔یہ فعل بھی بے حیائی پر دلالت کرتا ہے۔دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَھا : آپ نے سبز ٹہنی جو دو ٹکڑے کر کے قبروں پر گاڑی ہے اور اس امید کا اظہار فرمایا ہے کہ ممکن ہے جب تک یہ خشک نہ ہوں سزا ان سے ہلکی کر دی جائے۔یہ آپ نے گناہ اور سزا کی اہمیت آشکار کرنے کے لئے کیا۔ان کی سزا کی کیفیت دیکھ کر آپ کا دل رقت سے بھرا ہوا تھا اور رحمت جو آپ کی فطرت کا خمیر تھا، جوش میں تھی۔آپ نے ان کے لئے دعا کی اور گو ظاہری الفاظ میں دعا نہ بھی کی ہو۔مگر اہل اللہ کی یہ قلبی رقت بذات خود ایک دعا ہے اور ان شاخوں کا گاڑنا بھی بتلاتا ہے کہ آپ نے ان دونوں سے عذاب ہلکا ہو جانے کی عملا خواہش ظاہر فرمائی ہے اور امید کا اظہار کیا کہ ممکن ہے ان سے سزا ہلکی کی جائے اور یہ اس لئے کہ وہ نظارہ آپ کے دل میں کامل تواضع وخشیت کے جذبات پیدا کرنے والا تھا۔جس کا طبعی نتیجہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے جلال و استغناء کی صفات کا نقشہ واضح طور پر آپ کی آنکھوں کے سامنے کھینچ جاتا اور ان معنوی کیفیات کی وجہ سے آپ نے فرمایا: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهُمَا مَالَمْ تَيْبَسَا۔انبياء باوجوداس کے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق عاشق کا سا ہوتا ہے اور وہ اس سے کبھی اپنی بھی منواتے ہیں۔مگر وہ اس کے جلال و استغناء سے غافل نہیں ہوتے۔خصوصاً جب وہ روحانی آنکھ سے ایسا ہیبت ناک نظارہ دیکھ رہے ہوں۔ایک طرف تو آپ نے میر راز کھولا اور دوسری طرف عالم آخرت کا یہ راز افشاء کیا کہ نباتات جس طرح ایک کثیف بے حرکت جسم کو اپنے اندر جذب کر کے ایک لطیف متحرک زندگی میں اسے تبدیل کرتے ہیں اور غیر عضوی زندگی کو عضوی زندگی میں نمایاں کرتے ہیں، اسی طرح انسان جو اپنی بد عملی سے ایک کثیف جسم اپنے ساتھ لے جاتا ہے؛ اس کا استعمالہ کثافت سے لطافت میں اسی کے قانون ربانی کے ماتحت ہے، جو قانون اس دنیا کے عالم جمادات و نباتات میں کام کر رہا ہے اور آپ کا سبز شاخوں کو گاڑنا اس راز کے بتانے کے لئے ایک ظاہری علامت تھی اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے سامنے خود اس کے ایک فعل کو بطور سفارش کے کھڑا کر دیا۔عالم روحانی کے یہ راز ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔اس لئے آپ نے لوگوں کو مختصر جواب دیا اور ایک دوسرے موقع پر آپ نے اس قانون ربانی کی تشریح بھی کر دی۔فرمایا: كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ يعنى عالم آخرت میں اسی طرح نشو و نما پائے گا، جس طرح سیلاب کے کچرے میں دانہ نشو ونما پاتا ہے۔وہاں بھی روح کی کثافتیں اسی طرح لطافتوں میں تبدیل ہوں گی، جیسے یہاں ترابی مواد لطیف زندگی میں تبدیل ہوتے ہیں ( دیکھئے حدیث نمبر (۲۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ يُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ فِى كَبِيرٍ۔۔۔لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ۔آپ کے دل کی انتہائی افسردگی اور انقباض پر دلالت کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظارے نے آپ پر بہت گہرا اثر کیا تھا اور مختصر جواب بھی جو آپ نے دیا ہے؛ صحابہ کے پوچھنے پر دیا ہے۔