صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 300
صحيح البخاری جلد ا ۳۰۰ -۴- كتاب الوضوء كَبِيْرٍ ثُمَّ قَالَ بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا عَذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي عذاب نہیں دیا جارہا۔پھر فرمایا: بلکہ ان میں سے ایک بِالنَّمِيْمَةِ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيْدَةٍ فَكَسَرَهَا تو اپنے پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی كِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا کھاتا پھرتا تھا۔پھر آپ نے ایک کھجور کی شاخ منگوائی اور اس کے دوٹکڑے کئے اور ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹکڑہ گاڑ دیا۔آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے یہ کیوں کیا؟ فرمایا: شاید ان سے یہ عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک کہ یہ خشک نہ ہو جائیں۔یا كِسْرَةً فَقِيْلَ لَهُ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا۔( یہ کہا: ) حتی کہ یہ خشک ہو جائیں۔اطرافه ،۲۱۸ ، ۱۳۶۱ ، ۱۳۷۸، ٦٠٥٢، ٦٠٥٥۔تشریح : مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ لَّا يَسْتَتِرَ مِنْ بَوله: عام طور پرلوگ پیشاب کی ناپاکی کومعمولی خیال کر کے اس سے پر ہیز نہیں کرتے اور یہ سمجھ کر کہ ایک آدھ قطرے یا چھینٹے سے کپڑا کیا ناپاک ہوگا، بغیر پانی وغیرہ سے صاف کرنے کے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اس تساہل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قطرہ قطرہ جمع ہو کر عفونت و بد بو پیدا کر دیتا ہے۔اس لئے شارع اسلام نے پیشاب سے احتیاط نہ کرنے کو گناہ قرار دیا ہے اور مسلمان ایک لمبے عرصہ تک اپنے مرشد کامل کی ہدایت کی بڑی احتیاط سے پابندی کرتے رہے ہیں۔مگر یورپ کی اندھا دھند تقلید نے پھر ان کو اُلٹے پاؤں پھیر دیا ہے۔نہ ظاہری نجاست سے ان کو پر ہیز رہا ہے نہ باطنی نجاست سے۔روایت نمبر ۲۱۶ میں جس واقعہ کا ذکر ہے، اس کا تعلق عالم کشف سے ہے۔( نیز دیکھیں تشریح روایت نمبر ۴۲۸) اہل اللہ اس قسم کے روحانی مشاہدات سے ہمیشہ بہرور ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں اور ہمیں ان کے مشاہدات پر کامل یقین ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی۔پہلا دقیقہ معرفت صفحه ۸۶۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف میں ان کی آواز روحانی کانوں سے سنی اور آپ نے روحانی آنکھوں سے دیکھا کہ انہیں سزادی جارہی ہے اور سزا بھی ایسی باتوں کی وجہ سے دی جارہی ہے، جو ایک اعتبار سے معمولی ہیں اور ایک اعتبار سے بڑی۔یعنی چھوٹے سے چھوٹے گناہ پر اگر اصرار کیا جائے تو وہ بڑا ہو جاتا ہے اور انسان کو سزا کا مستوجب بنا دیتا ہے۔لوگ پیشاب سے اور چغلی سے پر ہیز نہیں کرتے اور انہیں معمولی سمجھتے ہیں۔مگر یہ دونوں باتیں ان کی روحانیت کو گندہ بنا سکتی ہیں۔پیشاب وغیرہ کی نجاست سے پر ہیز نہ کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ طبیعت سے اس کی نفرت دور ہو کر گندی باتوں کے لئے میلان پیدا کرنے والی حرکات اور بواعث کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔اس لحاظ سے وہ معمولی بے احتیاطی ایک کبیرہ گناہ ہوگا۔ایسا ہی چغلی کھانا بھی انسان کی سرشت میں فساد کا مرض پیدا کر کے ایک خطرناک صورت پیدا