صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxvi of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxvi

صحيح البخاری حد ۱۶ دیباچه مقام حدیث کے متعلق یہ وہ تعلیم ہے جو افراط و تفریط یث کے متعلق امام بخاری کا مذہب کے درمیان میں حد وسط پر واقع ہے اور جسے تمام اہل بصیرت نے اختیار کیا ہے اور حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی صحیح میں اسی زریں اصل کے پیش نظر حدیث کو قرآن مجید کے تابع رکھا ہے اور جہاں بھی آپ کو محسوس ہوا ہے کہ کسی حدیث کا مفہوم سمجھنے میں لوگوں کو غلطی لگنے کا احتمال ہے وہاں غلطی سے بچانے کے لئے عنوانِ باب میں قرآن مجید کی آیت درج کر کے لوگوں کو متنبہ کر دیا ہے۔مثلا کتاب الایمان میں باب نمبر۱۷ کا عنوان سورۃ توبہ کی آیت نمبر ۵ ) فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتُوُا الزَّكَوةَ فَخَلَّوْا سَبِيْلَهُمْ ) سے قائم کیا ہے اور اس کے ذیل میں جو حدیث ( نمبر ۲۵) نقل کی ہے (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا۔۔۔۔۔۔اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کافروں سے جنگ کرنے کا حکم علی الاطلاق ہے۔مگر امام موصوف نے آیت سے اس حدیث کے مفہوم کو مقید کر دیا ہے۔(دیکھئے کتاب الایمان باب ۱۷، تشریح روایت نمبر ۲۵) غرض امام موصوف نے اسی مذہب کو اپنی تصنیف میں شروع سے لے کر آخر تک ملحوظ رکھا ہے کہ قرآن مجید اصل ہے اور حدیث اس کی شارح اور تابع۔چنانچہ آپ نے اپنی تصنیف کو بَدَءُ الوَحْيِ سے اسی لئے شروع کیا ہے کہ اسلام کے تمام اصول و فروع وحی الہی اور نبوت پر مبنی ہیں اور اس پر ان اسلامی قواعد وضوابط کا دارو مدار ہے جن کی تفصیل و تشریح ایک طرف تعامل اور دوسری طرف حدیث نبوی کرتی ہے۔امام محمد بن اسماعیل بخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمتہ اللہ علیہ بخارا کے ایک ایرانی خاندان میں (جس کے مورث اعلیٰ بَردِ زبه زرتشتی تھے ) بروز جمعہ ۱۳ شوال ۱۹۴ ھ (مطابق ۲۱ جولائی ۸۱۰ء ) پیدا ہوئے۔بروز بہ کے بیٹے مغیرہ نے یمان جعفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔مغیرہ امام موصوف کے پردادا تھے اور جعفی کی روحانی نسبت سے اس زمانے کے دستور کے مطابق وہ اور ان کے خاندان کے افراد جعفی کے لقب سے مشہور ہوئے۔امام موصوف کے دادا کا نام ابراہیم تھا اور باپ کا نام اسماعیل جو ایک متمول تاجر تھے۔انہوں نے بوقت وفات اپنی اولاد کے لئے بہت بڑا سرمایہ چھوڑا اور فرمایا کہ اس مال میں ایک درہم بھی حرام یا مشتبہ نہیں۔حضرت اسماعیل بن ابراہیم کے متعلق ابن حبان کی تصنیف (کتاب الثقات) میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ چوتھے طبقہ کے راویوں میں شمار کئے جاتے تھے اور انہوں نے حماد بن زید اور امام مالک علیہما الرحمۃ سے کچھ روایتیں نقل کی ہیں اور یہ کہ علماء عراق نے ان کی روایت پر اعتماد کیا ہے۔امام محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی تاریخ الکبیر میں اپنے والد کا ذکر بائیں الفاظ کیا ہے کہ اسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ نے امام مالک اور حماد بن زید سے سنا اور یہ کہ وہ ابن المبارک کی صحبت میں رہے۔امام محمد بخاری رحمتہ اللہ علیہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ ان کے والد اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوگئی اور انہوں نے اپنے بڑے بھائی احمد اور والدہ کی سرپرستی میں پرورش پائی اور تعلیم حاصل کی۔ان کی عمر سولہ سال کی تھی جب وہ اپنی والدہ