صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 299
صحيح البخاری جلد ا ۲۹۹ - كتاب الوضوء عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ مغرب کے لئے اُٹھے اور کلی کی اور پھر اس کے بعد ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأُ۔آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔اطرافه: ۲۰۹، ۲۹۸۱، ٤۱۷۵، ٤۱۹٥، ۵۳۸٤، ٥٣۳۹۰، ٥٤٥٤، ٥٤٥٥۔شریح: الْوُضُوءُ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ: یہ عنوان قائم کر کے امام موصوف یہ امر ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ حدث کی حالت پیدا ہو تو ہی وضو کیا جائے بلکہ وضو ہوتے ہوئے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔جیسا کہ روایت نمبر ۲۱۴ سے واضح ہوتا ہے اور روایت نمبر ۲۱۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر کی حالت میں جب کہ پانی احتیاطا محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی آپ ہر نماز کے لئے نیا وضو نہ کرتے۔اس باب میں یہ سمجھایا ہے کہ کسی امر کا جواز اس بات کے منافی یا مانع نہیں ہوتا کہ اس سے بہتر بات نہ کی جائے۔قرآن مجید کے الفاظ إِذَا قُمتُم إِلى الصَّلوة (المائدة: ٧) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب نماز کے لیے اٹھو ؛ نیا وضو کرو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عام طور پر عمل درآمد بھی یہی تھا۔ایسا ہی یہ جو اجازت دی گئی ہے کہ ہلکی نیند پر جو بصورت اونگھ یا غنودگی ہو، وضو نہ دھرایا جائے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ جو بہتر بات ہو وہ نہ کرے بلکہ اصل حکم و منشاء پر نظر رکھنا سب سے زیادہ پسندیدہ بات ہے۔باقی رہے جائز امور تو ان سے ضرورت پر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں اس سے فائدہ اُٹھایا۔باب مذکور کے ذیل میں یہ دونوں روایتیں پہلو بہ پہلو لا کر امام موصوف نے یہی نکتہ واضح کیا ہے۔اب حالت اس کے بالکل برعکس ہے۔جائز امور تو اصل مقصد قرار دئے گئے ہیں اور اصل مقصد کو بالکل نَسيا منسيا کر دیا گیا ہے۔بَاب ٥٥ : مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ لَّا يَسْتَتِرَ مِنْ بَوْلِهِ کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ اپنے بول (پیشاب) سے بچاؤ نہ کرے ٢١٦: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا :۲۱۶ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا: جریر نے جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد عَبَّاسِ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔وَسَلَّمَ بِحَائِطِ مِنْ حِيْطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ انہوں نے کہا: نبی ﷺ مدینہ یا مکہ کے باغوں میں مَكَّةَ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذِّبَانِ سے ایک باغ کی دیوار کے پاس سے گزرے تو آپ فِي قُبُوْرِهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے دو آدمیوں کی آواز سنی، جن کو ان کی قبروں میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي عذاب دیا جار ہا تھا۔اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: انہیں