صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 297 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 297

صحيح البخاری جلد ا ۲۹۷ ۴- كتاب الوضوء ۲۱۳ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۱۳: ہم سے ابو معمر نے بیان کیا، کہا: عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) ایوب نے ہمیں قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ بتلایا۔ انہوں نے ابو قلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي انس سے ، حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ الصَّلَاةِ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ ۔ آپ فرماتے تھے: جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھے تو وہ سو جائے ، یہاں تک کہ جو کچھ پڑھ رہا ہو اسے معلوم بھی ہو۔ تشریح : الْوُضُوءُ مِنَ النَّوْمِ : اس مسلہ میں بھی اختلا ہوا ہے کہ آیا نیند سے بھی وضو جاتا ہے یا ہے یا نہیں۔ بعض نے مطلق نیند کو خواہ تھوڑی ہو یا بہت ناقض وض وڑی ہو یا بہت ناقض وضو قر ار دیا ہے اور بعض نے نہیں۔ اور بعض نے اونگھنا اور جھپکی وغیرہ ہلکی سی نیند کوشنی کر کے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر پوری نیند سے اُٹھے تو اسے وضو کرنا چاہیے۔ إِذَا قُمتُم إِلى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا (المائدة: (۷) میں قیام سے مراد نیند سے اُٹھنا لیا گیا ہے اور انہی معنوں میں حضرت ابو ہریرہ کی یہ حدیث گذر چکی ہے : إِذَا اسْتَيْقَظَ احَدُكُمْ مِنْ نَّوْمِهِ فَلْيَغْسِلُ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ (روایت نمبر ۱۶۲) یہی مذہب جمہور کا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ نے بھی لیٹ کر سونے والے کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔ ان میں سے امام مالک نے بیٹھ کر سونے والے کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ و ی ا ہے کہ وہ دیر تک نہ سوتا رہے۔ یعنی ایسی نیند ہو کہ کسی حد تک ہوش قائم رہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۰۹) 71 بداية المجتهد۔ كتاب الوضوء الباب الرابع المسئلة الثانية في النوم) باب کے عنوان نیز حدیث نمبر ۲۱۲ ۲۱۳ سے شارع اسلام کا یہ مقصد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اونگھنے والے کی نماز ہی نہیں ہوتی۔ وضو کا رہنا یا نہ رہنا؟ یہ سوال ہی ایک دوسرا ہے۔ ایسے شخص - را ہے۔ ایسے شخص کے لئے جو اونگھ رہا ہو، ارشاد نبوی یہ ہے: فَلْيَرْقُدْ ۔ وہ نماز چھوڑ کر وضو کے رہنے یا نہ رہنے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سو جائے۔ کیونکہ نماز صرف قیام ، رکوع اور سجود کا نام ہی نہیں؛ بلکہ دعا و مناجات ہے جس کا سمجھنا جاننا ضروری ہے۔ یہ اصل حکم ہے شارع اسلام کا۔ ان احادیث سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے لئے اپنی نماز کے معانی کا سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد اس بارے میں نہایت منذر ہے۔ فرماتا ہے : وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَوتِهِمْ سَاهُونَ ) (الماعون: (۵-۶) یعنی ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ منہ سے الفاظ تو نکل رہے ہیں مگر سمجھتے بوجھتے کچھ نہیں ! کچھ ہیں اور نہ دلوں میں ان کا کچھ اثر ہے۔