صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 296 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 296

صحيح البخاری جلد ا ۲۹۶ -۴- كتاب الوضوء بَابِ ٥٢ : هَلْ يُمَضْمِضُ مِنَ اللَّبَنِ کیا دودھ پی کرکلی کی جاوے ۲۱۱: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وقُتَيْبَةُ :۲۱۱: ہم سے سجی بن بکیر اور قتیبہ نے بیان کیا۔وہ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ دونوں کہتے تھے: لیث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْن عقیل سے عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ رسول اللہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ ﷺ نے دودھ دودھ پیا اور کلی کی اور فرمایا کہ اس میں وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا تَابَعَهُ يُونُسُ چکنائی ہوتی ہے۔تعقیل کی طرح یونس اور صالح بن وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ۔کیسان نے بھی زہری سے یہی روایت کی ہے۔طرفه: ٠٥٦٠٩ بَابِ ٥٣ : الْوُضُوْءُ مِنَ النَّوْمِ نیند سے اٹھ کر وضو کرنا وَمَنْ لَّمْ يَرَ مِنَ النَّعْسَةِ وَالنَّعْسَتَيْنِ أَوِ اور جو ایک دوبار کی اونگھ یا جھپکی سے وضو کرنا ضروری نہ سمجھے۔الْخَفْقَةِ وُضُوْءًا۔۲۱۲: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۱۲ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ میں سے کوئی اونگھے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو چاہیے کہ وہ سو جائے۔یہاں تک کہ اس سے نیند جاتی رہے۔النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ کیونکہ تم میں سے اگر کوئی اس حالت میں نماز پڑھے نَاعِسٌ لَّا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ کہ وہ اونگھ رہا ہو تو اسے کچھ پتہ نہ ہوگا۔شاید چاہے تو بخشش مانگنا۔اور لگے اپنے آپ کو برا بھلا کہنے۔نَفْسَهُ۔