صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 295
صحيح البخاری جلد ا ۲۹۵ بَاب ٥١ : مَنْ مَّضْمَضَ مِنَ السَّوِيْقِ وَلَمْ يَتَوَضَّأُ جس نے ستو کھا کر کلی کی اور وضو نہ کیا -۴- كتاب الوضوء ۲۰۹: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ ۲۰۹ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بن سَعِيدٍ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے تجي بن سعید سے، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مُّوْلَى بَنِي حَارِثَةَ تي نے بشير بن یسار سے جو کہ بنو حارثہ کے مولیٰ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ تھے۔روایت کی کہ سوید بن نعمان نے ان سے بیان مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا کہ جس سال خیبر فتح ہوا۔وہ رسول اللہ ﷺ کے عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوْا بِالصَّهْبَاءِ ساتھ نکلے۔جب آپ صہباء میں پہنچے اور یہ جگہ خیبر وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا کے ورے نشیب میں ہے تو آپ نے عصر کی نماز بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيْقِ فَأَمَرَ پڑھی۔پھر اس کے بعد آپ نے تو شے منگوائے۔بِهِ فَتُرِيَ فَأَكَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ آپ کے پاس سوائے ستوؤں کے اور کچھ نہ لایا گیا۔آپ نے حکم دیا اور وہ بھگوئے گئے۔رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا ثُمَّ قَامَ إِلَى ﷺ نے کھائے اور ہم نے بھی کھائے۔پھر آپ الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثُمَّ مغرب کی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور آپ نے صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ۔کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی۔پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔اطرافه ۲۱٥، ۲۹۸۱، ۱۷۵ ،۴۱۹۵، ۱۳۸۴، ٥۳۹۰، ٥٤٥٤، ٥٤٥٥۔٢١٠: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۲۱۰ ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا: ابن وہب ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو عَنْ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: عمرو نے مجھے بتلایا۔بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ مُّيْمُوْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ انہوں نے بکیر سے، بکیر نے گریب سے، گریب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا نے حضرت میمونہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ان كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأُ۔کے ہاں شانہ کا گوشت کھایا۔پھر اس کے بعد آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔