صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 294
صحيح البخاری جلد ا -۴- كتاب الوضوء تشریح: مَنْ لَّمْ يَتَوَضَّأُ مِنْ لَحْمِ الشَّاة : امام بخاری نے تین باب کے بعد دیگرے باندھے ہیں۔پہلے کا مضمون یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا گوشت اور ستو کھائے اور وضو نہیں دھرایا۔دوسرے کا مضمون یہ ہے کہ آپ نے ستو کھا کر کلی کی اور وضو نہیں ڈھرایا۔تیسرے کا مضمون یہ ہے کہ دودھ پیا اور کلی کی اور فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے۔خلاصہ یہ کہ ایسا کھانا پینا جس میں چکنائی ہو یا جس کا اثر منہ میں باقی رہتا ہو جیسے ستو اور دودھ تو اس کے بعد کلی کر کے نماز پڑھی جائے۔یہ ان آداب طہارت میں سے ہے جن کا تعلق وضو اور نماز کے ساتھ ہے۔پہلے باب کی حدیثوں میں گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کا ذکر ہے اور اس کے بعد کے دو بابوں میں جو روایتیں ہیں ان میں جہاں وضو کی نفی ہے، وہاں کلی کرنے کی صراحت ہے۔اس لئے اصول منطق کی بناء پر یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ کھانے کے بعد کلی کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔کیونکہ پہلی روایتیں صرف یہ بتلاتی ہیں کہ آپ نے وضو نہیں کیا۔یہ نہیں بتلاتیں کہ آپ نے کلی بھی نہیں کی اور بعد کی روایتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ آپ نے نہ صرف کلی کی بلکہ کلی کرنے کی وجہ بھی بیان فرمائی۔امام بخاری نے بابوں کی ترتیب میں منطقی اصول ملحوظ رکھ کر مسئلہ مذکورہ کو خوبی کے ساتھ واضح کیا ہے اور یہ ضرورت ان کو اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ نے ایک موقع پر گوشت کھایا اور وضو کیا۔ایسی حالت میں یہ بھی امکان ہے کہ آپ بے وضو ہوں۔بعض کا خیال ہے کہ آپ پہلے وضو نہیں کیا کرتے تھے۔مگر بعد میں آپ نے فرمایا کہ آگ سے پکا ہوا کھانا کھایا جائے تو وضو کر لینا چاہیے۔یہ لوگ آپ کا پہلا عمل درآمد منسوخ سمجھتے ہیں اور آگ سے پختہ اشیاء کھانے سے وضوڈ ہرانا ضروری قرار دیتے ہیں۔امام بخاری نے باب کے عنوان میں خلفائے راشدین کا عمل در آمد پیش کر کے ان کے اس خیال کا رڈ کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ خُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ۔(ابن ماجه كتاب المقدمه باب اتباع السنة الخلفاء الراشدين ) آپ کے بعد خلفائے راشدین حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان کا عمل یہ تھا کہ انہوں نے گوشت کھانے کے بعد وضو نہیں کیا۔سلیم بن عامر وغیرہ نے ان کے متعلق یہ روایت مذکورہ بالا بیان کی ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۰۶ ) لہذا خلفائے راشدین کا عمل درآمد اختلاف کی صورت میں ایک فیصلہ کن شہادت ہے۔حضرت جابر کی مشہور روایت اس باب میں واضح ہے۔كَانَ آخِرُ الْآمُرَيْنِ مِنْ رَّسُولِ اللَّهِ لا تَرُکُ الْوَضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔(عمدة القاری جزء ثالث صفحہ ۱۰۵) اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔امام بخاری نے باب کے عنوان میں لَحْمُ الشَّاةِ یعنی بکری کے گوشت کی جو تخصیص کی ہے تو یہ اس لئے کہ امام احمد بن حنبل اور بعض شافعی اہل حدیث نے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو ضروری قرار دیا ہے۔ان کے اس خیال کی بناء مسلم کی ایک روایت ہے اور وہ اسے مستحب سمجھتے ہیں۔اس خیال سے نہیں کہ گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔بلکہ مشار الیہار دایت کے احترام کو مد نظر رکھ کر امام بخاری نے لَحْمُ الشَّاۃ کی تخصیص کر کے اونٹ کے گوشت کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے۔امام مسلم کی روایت مذکورہ ان کی مقرر کردہ شروط صحت کے مطابق نہیں ہے۔بلکہ اس تخصیص سے ضمناً اس کی تردید ہی معلوم ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۰۵)