صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 293 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 293

صحيح البخاری جلد ا ۲۹۳ ۴- كتاب الوضوء با وضو پہن کر اگر تجدید وضو کرتے وقت ان پر مسح کیا ہو اور پھر اُتارنے کی ضرورت پڑے تو بعض فقہاء کی رائے ہے کہ پاؤں دھولے۔سارا وضو کرنے کی ضرورت نہیں اور بعضوں نے کہا کہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں۔بَاب ٥٠ : مَنْ لَّمْ يَتَوَضَّأْ مِنْ لَحْمِ الشَّاةِ وَالسَّوِيْقِ جو شخص بکری کا گوشت اور ستو کھا کر وضو نہ کرے وَأَكَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اللهُ عَنْهُمْ {لَحْمًا} فَلَمْ يَتَوَضَّتُوْا نے ( گوشت ) کھایا اور وضو نہ کیا۔۔:۲۰۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۰۷ : ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْن أَسْلَمَ عَنْ ) کہا : ( مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زید بن عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ اسلم سے، زید نے عطاء بن بیسار سے، عطاء نے أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت کی کہ رسول اللہ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأَ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا۔پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔اطرافه: ٥٤٠٤، ٥٤٠٥۔۲۰: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ :۲۰۸: ہم سے کئی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے تحقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جعفر بن عمرو بن اُمیہ نے مجھے بتلایا کہ ان کے باپ نے ان ابْن أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ع کو دیکھا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَرُّ مِنْ كَتِفِ آپ بکری کے شانہ سے گوشت کاٹ کر کھا رہے شَاةٍ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَى السِّكِيْنَ تھے۔اتنے میں آپ نماز کے لئے بلائے گئے تو فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ۔آپ نے چھری وہیں پھینک دی اور آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔اطرافه ،٦٧٥ ٢٩٢٣ ، ٥٤٠٨ ٥٤٢٢ ١٥٤٦٢ لفظ لحما فتح البارى مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۰۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔