صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 292 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 292

صحيح البخاری جلد ا ۲۹۲ - كتاب الوضوء میوزے جرابیں وغیرہ پہننے کی حالت میں مسح کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک مسلمان اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ میں تعمیل حکم کرتا ہوں۔اسلام جس کے معنی کامل فرمانبرداری کے ہیں، یہ تعلیم دیتا ہے کہ حکم بجالاتے وقت فرمانبرداری کی کوئی شق بھی نظر انداز نہ ہونے پائے۔اللہ تعالیٰ کی رخصتوں اور اجازتوں سے فائدہ اٹھانا بھی فرمانبرداری کا ایک جزء ہے۔اور اس سے انکار کرنا در حقیقت اسلام کے مفہوم سے انحراف کرنا ہے۔قبولیت نہ محض ایمان سے ہے اور نہ محض عمل سے، بلکہ فرمانبرداری کی روح قائم رکھنے سے، جس میں اپنے نفس کی مرضی کا دخل نہ ہو۔اس لئے شریعت نے جہاں جہاں استثنائی حالات کو مد نظر رکھ کر تعلیم دی ہے۔وہاں سہولت سے فائدہ اُٹھانا گویا منشائے الہی کو پورا کرنا ہے اور اس کے بر خلاف عمل کرنا شریعت سے اپنے آپ کو بالا تر سمجھنا ہے۔بَاب ٤٩ : إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ اگر اپنے دونوں پاؤں ( موزوں میں ) داخل کرے جبکہ وہ دونوں پاک ہوں ٢٠ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۲۰۶ : ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا: زکریا نے زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ ہمیں بتلایا۔انہوں نے عامر سے، عامر نے عروہ بن الْمُغِيْرَةِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ مِغیرہ سے، عروہ نے اپنے باپ سے روایت کی۔وہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَهْوَيْتُ کہتے تھے میں نبی ہی ہے کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔میں آگے بڑھ کر جھکا کہ آپ کے موزے اُتاروں لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا۔تشریح: تو آپ نے فرمایا: انہیں رہنے دو کیونکہ میں نے ان کو باوضو پہنا تھا۔آپ نے ان پر مسح کیا۔اطرافه ،۱۸۲ ، ٢٠٣ ، ٣٦٣، ۳۸۸، ۲۹۱۸، 44۲۱، 5798، 5799۔إِذَا أَدْخَلَ رِجُلَيْهِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ یہ مسئلہ بھی تقریبا متفق علیہ ہے کہ با وضو ہونے کی حالت میں اگر موزے وغیرہ پہنے جائیں تو ان پر مسح کرنا جائز ہوگا۔هُمَا طَاهِرَتَانِ سے شرعی طہارت یعنی وضو ہی مراد ہے نہ کہ محض ان کا دھونا۔اس مسئلہ میں ایک جزئی اختلاف ہے، جس کی بناء دراصل اس اختلافی مسئلہ پر ہے کہ آیا وضو میں اعضاء کو ترتیب سے دھونا ضروری ہے یا غیر ضروری۔امام مالک اور امام شافعی ترتیب کو ضروری قرار دیتے ہیں۔( فتح الباری جزء اول صفحی۴ ۴۰) اس لئے اگر پہلے پاؤں دھو کر موزے یا جرابیں پہنے ہوں تو وہ مسح جائز نہیں سمجھتے۔مگر امام ابوحنیفہ طَاهِرَتَانِ کے ظاہری الفاظ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو جائز سمجھتے ہیں۔حضر میں مسح کی حد ایک دن رات ہے اور سفر میں تین دن رات۔امام مالک اس مسئلہ میں اختلاف رکھتے ہیں۔ان کے نزدیک جب موزے اتارے یا جنبی ہو تو پاؤں دھوئے۔ورنہ جب تک چاہے موزوں پر مسح کرتا رہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے بداية المجتهد كتاب الوضوء۔الباب الثاني في مسح الخفين المسئلة الخامسة في التوقيت )