صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 291
صحيح البخاری جلد ا ۲۹۱ - كتاب الوضوء ٢٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا :۲۰۵ ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: اوزاعی نے ہم سے بیان يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَعْفَرٍ بن کیا۔انہوں نے کي سے، جی نے ابوسلمہ سے، بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيْهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى ابوسلمہ نے جعفر بن عمرو بن امیہ ) سے جعفر نے اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ صلى الله کو اپنی پگڑی اور اپنے موزوں پر مسح کرتے خُفَّيْهِ وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ دیکھا۔۔معمر نے بھی یہ روایت اوزاعی کی طرح أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ بیان کی۔انہوں نے تحی سے بچی نے ابوسلمہ سے،ابو سلمہ نے عمرو سے روایت کی انہوں نے کہا کہ میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔طرفه: ٢٠٤۔نے نبی ﷺ کو دیکھا۔تشریح: الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ : مسح کرنے کے بارے میں جہاں تک آیت وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ کی بناء پر اختلافی مسئلہ کا تعلق ہے۔اس کی مختصر بحث روایت نمبر ۱۸۶ میں گذر چکی ہے۔پاؤں ننگے ہوں تو ان کا دھونا فرض ہے اور اگر وضو کر کے موزے یا جرابیں پہن لے تو بغیر پاؤں دھونے کے پانچ نمازیں پڑھ سکتا ہے۔دوبارہ وضو کرنے کے وقت ان پر صرف مسح کر لینا کافی ہے۔جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔بعض نے حالت سفر میں مسح جائز قرار دیا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مسح کرنے کے متعلق جو اکثر روایتیں آئی ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سفر میں تھے۔مگر یہ استدلال ایسا نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جائے۔کیونکہ اس کے مقابل پر یہ استدلال بھی کیا جاسکتا ہے کہ سفر میں آپ نے مسح اسی لئے کیا کہ موزے اُتارنے میں مشقت تھی۔حضر میں بھی یہی وجہ قائم رہتی ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر کی حالت میں بھی مسح کیا ہے۔بعض نے مسح افضل قرار دیا ہے۔کیونکہ خارجی اور اہل شیعہ اس کے قائل نہیں اور اس کو مکر وہ جانتے ہیں۔گویا ایک ثابت شدہ سنت مٹانا چاہتے ہیں۔حالانکہ مسح کرنے کے متعلق مستند روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔حسن بصری کہتے ہیں کہ ان سے مسح کرنے کے بارے میں ستر صحابہؓ نے روایتیں بیان کی ہیں۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۹۹) پس جو لوگ اس سنت کو مٹانا چاہتے ہیں، ان کے مقابل اس سنت پر عمل کر کے اس کو قائم رکھنا نہایت عمدہ بات ہے۔روایت نمبر ۲۰۵ کے آخر میں معمر کی روایت کا حوالہ دے کر لفظ رأیت کے بعد وہ روایت دُہرائی نہیں۔امام موصوف نے یہ حذف اس امر کی طرف توجہ دلانے کے لئے کیا ہے کہ مسح کے متعلق یہ روایت شنیدہ نہیں بلکہ دیدہ ہے۔اس لئے لفظ رَأَيْتُ پر خاص زور دیا ہے۔