صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxv
صحيح البخارى ۱۵ دیباچه ظنی مرتبہ پر ہے قرآن کی ہرگز قاضی نہیں ہو سکتی۔صرف ثبوت مؤید کے رنگ میں ہے۔قرآن اور سنت نے اصل کام سب کر دکھایا ہے اور حدیث صرف تائیدی گواہ ہے۔حدیث قرآن پر کیسے قاضی ہو سکتی ہے۔قرآن اور سنت اُس زمانہ میں ہدایت کر رہے تھے جبکہ اس مصنوعی قاضی کا نام ونشان نہ تھا۔یہ مت کہو کہ حدیث قرآن پر قاضی ہے بلکہ یہ کہو کہ حدیث قرآن اور سنت کے لئے تائیدی گواہ ہے۔البتہ سنت ایک ایسی چیز ہے جو قرآن کا منشاء ظاہر کرتی ہے۔اور سنت سے وہ راہ مراد ہے جس راہ انحضرت علیہ نے عملی طور پر صحابہ کو ڈال دیا تھا۔سنت اُن باتوں کا نام نہیں ہے جو سوڈیڑھ سو برس بعد کتابوں میں لکھی گئیں بلکہ اُن باتوں کا نام حدیث ہے اور سنت اُس عملی نمونہ کا نام ہے جو نیک مسلمانوں کی عملی حالت میں ابتداء سے چلا آیا ہے۔جس پر ہزار ہا مسلمانوں کو لگایا گیا۔ہاں حدیث بھی اگر چہ اکثر حصہ اس کا ظن کے مرتبہ پر ہے۔مگر بشرط عدم تعارض قرآن و سنت تمسک کے لائق ہے اور موید قرآن وسنت ہے اور بہت سے اسلامی مسائل کا ذخیرہ اس کے اندر موجود ہے۔پس حدیث کا قدر نہ کرنا گویا ایک عضو اسلام کا کاٹ دینا ہے۔ہاں اگر ایک ایسی حدیث ہو جو قرآن اور سنت کے نقیض ہو اور نیز ایسی حدیث کی نقیض ہو جو قرآن کے مطابق ہے یا مثلاً ایک ایسی حدیث ہو جو صحیح بخاری کے مخالف ہے تو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہوگی۔کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اور ان تمام احادیث کو جو قرآن کے موافق ہیں رڈ کرنا پڑتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پر ہیز گار اس پر جرات نہیں کرے گا کہ ایسی حدیث پر عقیدہ رکھے کہ وہ قرآن اور سنت کے برخلاف اور ایسی حدیثوں کے مخالف ہے جو قرآن کے مطابق ہیں۔بہر حال احادیث کا قدر کرو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ کہ وہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہیں اور جب تک قرآن اور سنت ان کی تکذیب نہ کرے تم بھی ان کی تکذیب نہ کرو بلکہ چاہیے کہ احادیث نبویہ پر ایسے کار بند ہو کہ کوئی حرکت نہ کرو اور نہ سکون اور نہ کوئی فعل کرو اور نہ ترک فعل مگر اس کی تائید میں تمہارے پاس کوئی حدیث ہو۔“ کشتی نوح صفحه ۶۳-۶۵، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۱-۶۳)