صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 289
صحيح البخاری جلد ا ۲۸۹ ۴- كتاب الوضوء سابقہ روایات کے مشترکہ مضمون اور امام شافعی کا استدلال تسلیم کرتے ہوئے وہ اس باب سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ خیال بھی درست نہیں کہ وضو اور نہانے میں پانی استعمال کرنے کا کوئی اندازہ ہی نہ ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراف سے منع فرمایا ہے اور ہر شئی میں اندازہ اور مقدار ملحوظ رکھی ہے۔ وضو کے متعلق فرمایا: اگر تم ندی کے کنارے بیٹھے ہوئے وضو کر رہے ہو۔ تب بھی اسراف نہ کرو۔ مڈ ایک پیمانہ تھا جس میں دو دھل وزنی شئی سماسکتی تھی۔ یعنی ایک سیر کے قریب اور صاع چار مد یعنی ۸ رطل کا ہوتا ہے۔ جس طرح آج کل سیر ہمارے ہاں پکا اور کچا ہوتا ہے، اس زمانہ میں رطل کے وزن میں بھی اسی طرح فرق تھا اور اب بھی کچھ نہ کچھ فرق ہر جگہ ہے۔ ایک رطل کا اندازہ سوا پانچ چھٹانک کیا گیا ہے۔ اس حساب سے وضو کے لئے کم از کم مقدار پانی کی ایک سیر ہوتی ہے اور نہانے کے لئے سوا پانچ سیر ۔ مسلم نے حضرت عائشہ سے ایک اور روایت نقل کی ہے کہ آپ ایک برتن سے نہایا کرتے تھے، جس میں تین مند پانی آتا تھا۔ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی مقدار ضرورت و حالات کے لحاظ سے کم و بیش ہو جایا کرتی تھی۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۹۸) امام بخاری نے باب کے عنوان میں کم از کم مقدار کی جو تخصیص کی ہے تو اس سے ان لوگوں کا رد کرنا مقصود ہے جو کسی اندازے کے قائل نہیں۔ بَاب ٤٨ : الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ موزوں پر مسح کرنا ۲۰۲: حَدَّثَنَا أَصْبَعُ بْنُ الْفَرَج :۲۰۲ ہمیں اصبغ بن فرج مصری نے ابن وہب الْمِصْرِيُّ عَنْ ابْنِ وَهْبِ قَالَ حَدَّثَنِي سے روایت کرتے ہوئے بتلایا، کہا: مجھ سے عمرو نے عَمْرٌو حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) ابونضر نے مجھے بتلایا کہ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ انہوں نے ابوسلمہ بن عبد الرحمان سے، ابوسلمہ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے، حضرت عبد اللہ نے عُمَرَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَسَحَ بیان کیا کہ آپ نے دونوں موزوں پر سح کیا اور یہ کہ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حضرت عمرؓ سے اس کے سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ( یہ بات ) درست ہے۔ حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ جب حضرت سعد نبی ﷺ کے متعلق کوئی بات بتائیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ وَقَالَ تو کسی دوسر دوسرے سے اس کے متعلق نہ پوچھا کرو اور حضرت سعد بن ابی وقاص سے نبی ﷺ کے متعلق