صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 288 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 288

صحيح البخاری جلد ا ۲۸۸ ۴- كتاب الوضوء تشریح: الْوُضُوءُ مِنَ التَّورِ : حدیث ۱۹۵ میں بھی اس قسم کے معجزے کا ذکر حضرت انسؓ سے مروی ہے۔لیکن وہاں أُتِيَ بِمِخْضَبِ مِنْ حِجَارَةٍ ہے۔یعنی آپ کے پاس پتھر کالگن لایا گیا۔جو اتنا چھوٹا تھا کہ آپ اس میں اپنا ہاتھ نہیں پھیلا سکتے تھے اور اس باب کی دوسری روایت میں فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ ہے۔یعنی آپ کے پاس ایک فراخ پیالہ لایا گیا۔اس سے بعض شارحین کا یہ خیال ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔مگر یہ میچ نہیں۔واقعہ ایک ہی ہے، جیسا کہ وضو کرنے والوں کی تعداد سے معلوم ہوتا ہے۔اس روایت میں بھی اسی (۸۰) کے قریب ہی تعداد ہے اور یہاں بھی ایک ہی عنوان باب کے ماتحت روایت نمبر ۲۰۰۱۹۹ کو جمع کرنا بتلاتا ہے کہ واقعہ ایک ہی ہے۔روایت ۲۰۰ کے الفاظ یہ ہیں: بِقَدَةٍ رَحْرَاج یعنی کھلے منہ کا پیالہ اور عنوان باب کے یہ الفاظ ہیں: الْوُضُوءُ مِنَ التَّورِ اور روایت ۱۹۵ کو بھی مخصب یعنی لگن کے عنوان کے ماتحت لایا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۹۹ کے یہ الفاظ قابل غور ہیں : كَانَ عَمِّى يُكْثِرُ مِنَ الْوُضُوءِ یعنی میرے چاوضو میں پانی بہت استعمال کیا کرتے تھے۔اس لئے میں نے حضرت عبداللہ بن زید سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا کہ وضو میں کتنا پانی استعمال کیا کرتے تھے۔اس پر انہوں نے پانی کا ایک لگن منگوایا اور اس سے وضو کر کے دکھلایا۔ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام موصوف ان روایات سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔باب ۷ بھی وضو کے پانی کی مقدار کے متعلق ہے۔بَابِ ٤٧ : الْوُضُوْءُ بِالْمُدِ ایک مد (پانی) سے وضو کرنا ۲۰۱: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۰۱: ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا: مسکر نے ہمیں مِسْعَرٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ قَالَ بتلایا۔انہوں نے کہا: ابن جبر نے مجھ سے بیان کیا سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُوْلُ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ کہا: میں نے حضرت انس سے سنا۔کہتے تھے: نبی يَغْسِلُ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى ﷺ ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک ( پانی سے ) خَمْسَةِ أَمْدَادٍ وَّيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِ۔نہائے یا کہا غسل فرمایا کرتے تھے اور ایک مد پانی الله سے وضو کیا کرتے تھے۔تشریح : الْوُضُوءُ بِالْمُةِ : حدیث نمبر ۲۰۰ سے امام شافعی نے استدلال کیا ہے کہ وضو کرنے میں پانی کی کوئی مقدار معین نہیں کیونکہ صحابہ لگن سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق پانی لے لے کر وضو کرتے جاتے تھے۔اس استدلال سے انہوں نے ان لوگوں کا رد کیا ہے جو مقدار معین پر زور دیتے ہیں۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۹۸) امام بخاری نے حدیث نمبر ۲۰۰ کے بعد یہ باب اسی مذکورہ بالا اختلافی مسئلہ کی مناسبت کی وجہ سے قائم کیا ہے اور