صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 285
صحيح البخاری جلد ا ۲۸۵ - كتاب الوضوء عليه صلى الله قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ کہتی تھیں : جب نبی ﷺ بیمار ہوئے وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ اور آپ کی بیماری نے آپ پر سخت حملہ کیا تو آپ نے أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں آپ کی لَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تیمارداری کی جائے۔تو انہوں نے آپ کو اجازت بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ دی۔اس پر نبی ﷺ دو آدمیوں کے درمیان سہارا بَيْنَ عَبَّاسٍ وَّرَجُلٍ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ لیتے ہوئے نکلے۔آپ کے پاؤں زمین پر لکیر ڈال فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسِ فَقَالَ رہے تھے۔حضرت عباس اور ایک اور شخص کے أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ قُلْتُ لَا قَالَ درمیان۔عبید اللہ کہتے تھے۔میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس کو یہ بتلایا تو انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ دوسرا شخص کون ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب) ہیں اور حضرت عائشہ رضی هُوَ عَلِيٌّ وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ جب نبی ﷺ کی تکلیف وَجَعُهُ هَرِيْقُوْا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَّمْ بڑھ گئی اور آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو آپ تُحْلَلْ أَوْ كِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ نے فرمایا: مجھ پر سات ایسی مشکوں سے پانی انڈیلو کہ وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبِ لِحَفْصَةَ زَوْحِ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں۔شاید کہ میں النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ طَفِقْنَا لوگوں کو وصیت کرسکوں۔آپ کو ایک لگن میں بٹھایا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ حَتَّى گیا جو نبی ﷺ کی بیوی حضرت حفصہ کا تھا۔پھر ہم طَفِقَ يُشِيْرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَ آپ پرمشکیں ڈالنے لگے۔یہاں تک کہ آپ ہم کو اشارہ کرنے لگے کہ بس تم کر چکیں۔پھر آپ لوگوں إِلَى النَّاسِ۔صلى الله کے پاس باہر گئے۔اطرافه: ٦٦٤ ٦٦٥ ٦٧٩ ٦٨٣، ۶۸۷، ۷۱۲، ٧١٣، ٧١٦، ٢٥٨٨، ٣٠٩٩، ۷۳۰۳ ،۵۷۱٣٣٨٤ ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٤ تشريح : اَلْغُسْلُ وَالْوُضُوءُ فِى الْمِخْضَبِ: اس باب میں اور نیز اگلے باب میں نہانے دھونے کے برتنوں کا ذکر کیا ہے۔قدح پیالہ کو کہتے ہیں جو اکثر لکڑی کا ہوتا ہے۔مخضب لگن، کپڑے دھونے یا