صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 286 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 286

صحيح البخاری جلد ا ۲۸۶ - كتاب الوضوء رنگنے کا برتن۔پتھر کا بھی ہوتا ہے۔دو برتنوں کا ذکر کر کے وَالْخَشَبُ کو اَلْقَدَح پر اور الْحِجَارَة کو الْمِخْضَب پر معطوف کیا ہے۔یعنی لکڑی کا ہو یا پتھر کا ، ان دونوں قسم کے برتنوں کے استعمال کے متعلق پہلے دو روایتیں لائے ہیں۔اس کے بعد دو اور روایتیں نقل کی ہے۔جن میں پیتل کے برتن اور چمڑے کی اشیاء کا ذکر ہے۔اگلے باب میں طشت سے وضو کرنے کا ذکر ہے۔امام موصوف نے ان احادیث کا حوالہ دے کر جہاں نہانے اور وضو کرنے میں پانی کی کمیت کے متعلق مسائل مختلف فیہا کا حل کیا ہے۔وہاں ضمناً ان لوگوں کے باطل خیالات کا بھی رد کیا ہے، جو دینی عبادات میں برتنوں کی تخصیص کرتے ہیں کہ اس قسم کے ہوں اور فلاں قسم کے نہ ہوں۔مثلاً اب بھی ہندوستان میں نہ صرف ہندؤں میں ہی یہ خیال پایا جاتا ہے بلکہ مسلمانوں میں بھی ہے کہ گڑوی ہندو کی اور لوٹا مسلمان کا۔یہ گڑوی استعمال کرنا مکروہ سمجھتے ہیں اور وہ لوٹا۔نہ صرف برتنوں بلکہ دھاتوں کے متعلق بھی یہی خیال ہے۔مثلاً ہندو تا نیا استعمال نہیں کرتے ، مسلمان پیتل۔ان تعصبات کو دیکھ کر انبیاء علیہم السلام کی اس جدو جہد کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔جوانہیں بنی نوع انسان کو چھوٹی چھوٹی مگر نہایت راسخ جہالتوں سے مخلصی دینے میں کرنی پڑی ہے۔جو لوگ اپنی موجودہ ترقی پر نازاں ہوتے ہوئے انبیاء کے جہاد عظیم کی قدر و قیمت کا شعور نہیں رکھتے ، ان کی مثال بالکل ان نالائق بچوں کی ہے جن کو بڑے ہو کر والدین کی تکالیف کا احساس نہیں ہوتا۔روایت نمبر ۱۹۵ کتاب المناقب باب علامات النبوۃ میں بھی دہرائی گئی ہے۔اس معجزے کی تشریح اپنے محل پر ہوگی۔روایت ۱۹۷ کی تشریح روایت ۱۸۵ میں دیکھیں اور ۱۹۸ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت کا جو ذکر ہے یہ بخاری میں سات جگہ آیا ہے۔کتاب المغازی، باب مرض النبی ہی ہے میں متعلقہ واقعات کی تفصیل دیکھی جائے۔نفس مضمون کے ساتھ روایت نمبر ۱۹۸ کا یہ تعلق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عند الضرورت سات مشکوں سے نہائے اور روایت نمبر ۱۹۵ تا ۲۰۱ لاکر امام بخاری نے یہ سمجھایا ہے کہ کبھی آپ نے لگن سے پانی لے کر وضو کیا اور کبھی بڑے پیالے سے اور کبھی طشت سے اور کبھی ایک مد پانی سے جو گیارہ (۱) چھٹانک کا ہوتا ہے اور ایسا ہی ان برتنوں سے آپ نہائے بھی۔ان تمام روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ نہانے اور وضو کرنے میں آپ ضرورت کے مطابق پانی استعمال کیا کرتے تھے۔بَابِ ٦ ٤ : الْوُضُوْءُ مِنَ التَّوْرِ لگن سے وضو کرنا ۱۹۹: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ :١٩٩ خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا: سلیمان نے حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: عمرو بن سکی نے اپنے يَحْيَى عَنْ أَبِيْهِ قَالَ كَانَ عَمِّي يُكْثِرُ باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔وہ کہتے مِنَ الْوُضُوْءِ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ تھے میرے چچا وضو میں پانی بہت استعمال کرتے أَخْبِرْنِي كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى الله تھے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید سے کہا: