صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxiv
صحيح البخ ما عملی کارروائیاں جو آپ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھلائیں۔مثلاً قرآن شریف میں بظاہر نظر پنجگانہ نمازوں کی رکعات معلوم نہیں ہوتیں کہ صبح کس قدر اور دوسرے وقتوں میں کس کس تعداد پر۔لیکن سنت نے سب کچھ کھول دیا ہے۔یہ دھوکہ نہ لگے کہ سنت اور حدیث ایک چیز ہے۔کیونکہ حدیث تو سو ڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی۔مگر سنت کا قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود تھا۔مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے۔خدا اور رسول کی ذمہ واری کا فرض صرف دو امر تھے اور وہ یہ کہ خدا نے قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دی۔یہ تو خدا کے قانون کا فرض تھا اور رسول اللہ ﷺ کا یہ فرض تھا کہ وہ خدا کی کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھا دیں۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گفتنی با تیں کر دنی کے پیرا یہ میں دکھلا دیں اور اپنی سنت یعنی عملی کارروائی سے معضلات اور مشکلات مسائل کو حل کر دیا۔یہ کہنا بے جا ہے کہ یہ حل کرنا حدیث پر موقوف تھا۔کیونکہ حدیث کے وجود سے پہلے اسلام زمین پر قائم ہو چکا تھا۔* کیا جب تک حدیثیں جمع نہ ہوئی تھیں لوگ نماز نہ پڑھتے تھے یا زکوۃ نہ دیتے تھے یا حج نہ کرتے تھے یا حلال حرام سے واقف نہ تھے۔ہاں تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے۔کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔جن لوگوں کو ادب قرآن نہیں دیا گیا وہ اس موقع پر حدیث کو قاضی قرآن کہتے ہیں۔جیسا کہ یہودیوں نے اپنی حدیثوں کی نسبت کہا۔مگر ہم حدیث کو خادم قرآن اور خادم سنت قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آقا کی شوکت خادموں کے ہونے سے بڑھتی ہے۔قرآن خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ کا فعل اور حدیث سنت کے لئے ایک تائیدی گواہ ہے۔نعوذ باللہ یہ کہنا غلط ہے کہ حدیث قرآن پر قاضی ہے۔اگر قرآن پر کوئی قاضی ہے تو وہ خود قرآن ہے۔حدیث جو ایک یباچه اہل حدیث فعل رسول اور قول رسول دونوں کا نام حدیث ہی رکھتے ہیں۔ہمیں ان کی اصطلاح سے کچھ غرض نہیں۔دراصل سنت الگ ہے جس کی اشاعت کا اہتمام خود آنحضرت ﷺ نے بذات خود فر مایا اور حدیث الگ ہے جو بعد میں جمع ہوئی۔منہ