صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xxxiv of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxxiv

صحيح البخاري ۱۴ دیباچه ☆ عملی کارروائیاں جو آپ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھلائیں ۔ مثلاً قرآن شریف میں بظاہر نظر پنجگانہ نمازوں کی رکعات معلوم نہیں - ہوتیں کہ صبح کسی قدر اور دوسرے وقتوں میں کسی کسی تعداد پر لیکن سنت نے سب کچھ کھول دیا ۔ سو ڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی ۔ مگر سنت کا قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود دیا ہے۔ یہ دھوکہ نہ لگے کہ سنت اور حدیث ریث کا ایک چیز ہے۔ کیونکہ حدیث نے تو تھا۔ مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے۔ خدا اور رسول کی ذمہ داری کا فرض صرف دو امر تھے اور وہ یہ کہ خدا نے قرآن کو نازل کر کے مخلوقات صلى الله کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دی۔ یہ تو خدا کے قانون کا فرض تھا اور رسول اللہ ﷺ کا یہ فرض تھا کہ وہ خدا کی کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھا دیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گفتنی باتیں کر دنی کے پیرا یہ میں دکھلا دیں اور اپنی سنت یعنی عملی کارروائی سے معضلات اور مشکلات مسائل کو حل کر دیا۔ یہ کہنا بے جا ہے کہ یہ حل کرنا حدیث پر موقوف تھا۔ کیونکہ حدیث کے وجود سے پہلے اسلام زمین پر قائم ہو چکا تھا۔ * کیا جب تک حدیثیں جمع نہ ہوئی تھیں لوگ نماز نہ پڑھتے تھے یا زکوۃ نہ دیتے تھے یا حج نہ کرتے تھے یا حلال حرام سے واقف نہ تھے۔ ہاں تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے۔ کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔ جن لوگوں کو ادب قرآن نہیں دیا گیا وہ اس موقع پر حدیث کو قاضی قرآن کہتے ہیں۔ جیسا کہ یہودیوں نے اپنی حدیثوں کی نسبت کہا۔ مگر ہم حدیث کو خادم قرآن اور خادم سنت قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آقا کی شوکت خادموں کے ہونے سے بڑھتی ہے۔ قرآن خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ کا فعل اور حدیث سنت کے لئے ایک تائیدی گواہ ہے۔ نعوذ باللہ یہ کہنا غلط ہے کہ حدیث قرآن پر قاضی ہے۔ اگر قرآن پر کوئی قاضی ہے تو وہ خود قرآن ہے۔ حدیث جو ایک اہل حدیث فعل رسول اور قول را اور قول رسول دونوں کا نام حدیث ہی رکھتے ہیں۔ ہمیں ان کی اصطلاح سے کچھ غرض نہیں۔ دراصل سنت الگ ہے جس کی اشاعت کا اہتمام خود آنحضرت اللہ نے بذات خود فرمایا اور حدیث الگ ہے جو بعد میں جمع ہوئی۔ منہ