صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 279 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 279

صحيح البخاری جلد ا تشریح ۲۷۹ ۴- كتاب الوضوء گذشتہ باب اور روایت نمبر ۱۸۷، ۱۸۸ نیز ۱۸۹ پیش کر کے امام بخاری نے ان کے ضمن میں یہ باب باندھا ہے، جس کا کوئی الگ عنوان قائم نہیں کیا بلکہ اس میں صرف ایک روایت لائے ہیں۔اس خاص ترتیب کے اختیار کرنے سے ایک تو یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ باب کوئی علیحدہ نہیں بلکہ پہلے باب سے پیوستہ ہے اور دوسرا یہ سمجھانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبین ہیں، وہ اپنی ہر بات میں ایک خاص امتیاز رکھتے تھے جو دوسرے کو حاصل نہیں۔چنانچہ اسی امتیاز کی وجہ سے حضرت سائب بن یزید کے بیمار ہونے پر ان کی خالہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جاتی ہیں۔آپ ان کو برکت کی دعا دیتے ہیں۔سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔اپنے وضو کے بچے ہوئے پانی سے ان کو پینے کے لئے دیتے ہیں۔حضرت سائب بن یزید شفا پا جاتے ہیں اور آپ کی دعا کی برکت سے ان کو ایک لمبی عمر ملتی ہے۔تین ہجری میں پیدا ہوئے۔سات سال کی عمر میں وہ اپنے باپ کے ساتھ حجتہ الوداع میں شریک تھے اور 91ھ میں فوت ہوئے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مدینہ کی منڈی کے منتظم تھے۔الإصابة في تمييز الصحابه۔حرف السين۔سائب بن یزید۔نمبر : ۳۰۷۷) روایت نمبر ۱۹۰ کو مد نظر رکھا جائے تو گذشتہ باب کی روایتوں کے لانے سے امام بخاری کا جو مقصد ہے وہ واضح ہو جاتا ہے۔بَاب ٤١ : مَنْ مَّضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَّاحِدَةٍ جس نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۱۹۱ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۹۱ ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا: خالد بن عبداللہ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو بن سکی نے ہمیں بتلایا۔يَحْيَى عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت أَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ عبد الله بن زیڈ سے روایت کی۔انہوں نے برتن سے غَسَلَ أَوْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر ان کو دھویا۔پھر وَّاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا فَغَسَلَ يَدَيْهِ انہوں نے (منہ کو دھویا۔یا ( کہا) کلی کی اور ناک ) میں پانی لیا، ایک ہی چلو سے۔اور تین بار ایسا ہی کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو دو دفعہ دھویا اور سر کا مسح کیا۔آگے بھی اور پیچھے بھی اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔پھر کہا کہ رسول اللہ علے کا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَا أَقْبَلَ وَمَا أَدْبَرَ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وضو اسی طرح ہے۔اطرافه ١٨٥، ١٨٦، ۱۹۲، ۱۹۷، ۱۹۹۔