صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 280 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 280

صحيح البخاری جلد ا تشریح: ۲۸۰ ۴- كتاب الوضوء مَنْ مَّضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ: فقہاء نے کلی کرنے اور ناک میں پانی لے کر اس کو صاف کرنے سے متعلق بھی مختلف بخشیں اٹھائی ہیں کہ آیا یہ فرض ہے یا سنت؟ کیونکہ اللہ تعالی نے تو صرف یہ فرمایا ہے: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ۔لفظ وجہ سے چہرہ کا ظاہری حصہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور اس کے مختلف حصے بھی۔جیسے ناک، منہ، آنکھ۔غرض یہ بحث اٹھا کر بعض فقہاء نے ان کے دھونے کو فرض قرار دیا ہے اور بعض نے سنت۔پھر انہوں نے اس مسئلہ میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا ایک چلو پانی سے کلی بھی کر سکتا ہے۔اور اسی سے ناک میں بھی پانی لے سکتا ہے یا نہیں۔امام بخاری شروع میں واضح کر چکے ہیں کہ مختلف حالات کے ماتحت ایک ایک دفعہ اعضاء کو دھونے سے بھی وضو ہو سکتا ہے۔اس مسئلے کے متعلق بھی سنت نبویہ پیش کر کے جواز کی صورت بتلائی ہے۔پانی کم ہو تو ایسا کرسکتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے۔حضرت عبداللہ بن زید کی یہ روایت نمبر ۱۸۵ میں بھی گذر چکی ہے اور روایت ۱۹۹،۱۹۲ میں بھی ہے۔تینوں جگہ سند مختلف ہے۔اس لئے الفاظ میں قدرے اختلاف ہے۔ان تینوں روایتوں کو یکجائی طور پر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ ایک موقع پر وضو کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اعضاء کو دو دو دفعہ دھویا اور بعض کو تین دفعہ اور ایک چلو پانی سے کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی لیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خاص واقعہ ہے۔ورنہ آپ اعضاء کو اکثر تین تین دفعہ دھویا کرتے تھے۔خاص واقعہ سے صرف جواز کی صورت نکلتی ہے۔بَاب ٤٢ : مَسْحُ الرَّأْسِ مَرَّةً سر کا ایک دفعہ مسح کرنا ۱۹۲ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۱۹۲ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو وَبَیب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو بن سکی نے اپنے ابْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيْهِ قَالَ شَهِدْتُ عَمْرَو باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔وہ کہتے ابْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ تھے: میں عمرو بن ابی حسن کے پاس موجود تھا۔انہوں عَنْ وُضُوْءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عبد اللہ بن زید سے نبی کریم ﷺ کے وَسَلَّمَ فَدَعَا بِتَوْرِ مِنْ مَّاءٍ فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پانی کا ایک لگن لَا فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا ثُمَّ منگوایا اور ان کو وضو کر کے دکھلایا۔انہوں نے اپنے أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ دونوں ہاتھوں پر (پانی) انڈیلا اور انہیں تین دفعہ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ دھویا۔پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈال کر کلی کی اور ناک