صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 278
صحيح البخاری جلد ا ۲۷۸ - كتاب الوضوء سے کہا۔آپ نے فرمایا : تمہیں بشارت ہو۔یعنی ایفاء وعدہ کا وقت قریب ہے۔اس نے کہا: یہ بشارتیں تو بہت ہو چکی ہیں۔یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔آپ نے حضرت ابو موسیٰ اور حضرت بلال کو مخاطب کر کے فرمایا: اس نے تو بشارت کو ردّ کر دیا ہے۔تم ہی قبول کر لو۔ان دونوں نے کہا: ہم نے قبول کی۔اس کے بعد آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا، جس میں پانی تھا۔منہ ہاتھ دھو کر اس میں کلی کی اور فرمایا: اس میں سے پیو اور اپنے منہ اور سینہ پر ڈالواور تمہیں بشارت ہو۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور بعد کے واقعات بتلاتے ہیں کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے وارث ہوئے۔امام بخاری ان واقعات کی طرف اشارہ کر کے بتلاتے ہیں کہ یہ خارق عادت امتیاز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا اور جہاں سچی محبت و عشق ہو وہاں کراہت و نفرت کا سوال نہیں رہتا۔ہم دنیا وی عشق و محبت کے مظاہرات میں بھی یہی دیکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہر مومن کے بچے ہوئے پانی کو شفا کا موجب قرار دیا ہے اور اس طرح نفرت کے احساسات کو مٹاکر محبت کے جذبات کی طرح ڈالی ہے۔جیسا کہ فرمایا: سُورُ الْمُؤْمِنُ شِفَاءٌ المقاصد الحسنة۔حرف الراء۔نمبر (۵۳۴) غرض امام موصوف نے فقہی مسئلہ سے نظر پھیر کر ایک روحانی امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔ظاہری فتوی کے ساتھ اس کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا محبت یا نفرت کے احساسات کا تقاضا ہو سکتا ہے۔قواعد حفظانِ صحت کے اعتبار سے شارع اسلام کی تعلیم نہایت واضح ہے۔یعنی یہ کہ پانی پیتے وقت اس میں سانس مت لو اور کم از کم تین بار قم لے کر پیو۔باب ۱۹۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ۱۹۰ ہم سے عبد الرحمن بن یونس نے بیان کیا ، کہا: يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے جعد عَنِ الْجَعْدِ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ سے روایت کی۔جعد نے کہا: میں نے حضرت سائب يَزِيْدَ يَقُوْلُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ بن یزید سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ میری خالہ نبی علے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ کے پاس مجھے لے گئی اور کہا: یارسول اللہ ﷺ ! میری اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَقعَ فَمَسَحَ رَأْسِى بہن کا بیٹا بیمار ہے۔تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی۔پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی پیا مِنْ وَضُوْءِهِ ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ اور پھر میں آپ کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور میں كَتِفَيْهِ نے نبوت کی مہر آپ کے دونوں کاندھوں کے فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ۔اطرافه: ٣٥٤٠، ٣٥٤١، ٥٦٧٠، ٦٣٥ درمیان دیکھی ، چھپر کھٹ کی گھنڈی کے مانند تھی۔