صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 277
صحيح البخاری جلد ا ۲۷۷ - كتاب الوضوء شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ نے صالح سے،صالح نے ابن شہاب سے روایت کی الرَّبِيعِ قَالَ وَهُوَ الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ کہ انہوں نے کہا: حضرت محمود بن ربیع نے مجھے خبر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ دی۔( ابن شہاب نے ) کہا: یہ وہی محمود ہیں جن کے غُلَامٌ مِنْ بِثْرِهِمْ وَقَالَ عُرْوَةُ عَن منہ پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے کنوئیں سے (پانی الْمِسْوَرٍ وَغَيْرِهِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ لے کر کلی کی تھی اور وہ اس وقت لڑکے تھے۔نیز مِنْهُمَا صَاحِبَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى ابن شہاب نے کہا: ) عروہ نے مسور اور ان کے علاوہ (لوگوں) سے (بھی) روایت کی۔ان دونوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوْا يَقْتَتِلُوْنَ عَلَى میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی تصدیق کرتا تھا کہ وَضُوءِه۔جب نبی ﷺہ وضو کرتے تو قریب ہوتا کہ صحابہ آپ کے وضو کے پانی پر آپس میں لڑ پڑیں۔اطرافه ،۷۷ ،۸۳۹ ۱۱۸۵، ٦٣٥٤ ٦٤٢٢۔تشریح: فَضْلُ وُضُوءِ النَّاسِ : سے مراد وہ بچا ہوا پانی بھی ہے جو وضو کرنے کے بعد برتن میں رہ جاتا ہے اور وہ بھی ہے جو اعضاء کو دھوتے وقت گرے۔فقہاء کے درمیان ایسے پانی کو استعمال کرنے سے متعلق بھی اختلاف ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال شدہ پانی کو اپنے جسم سے ملنے اور نیز حضرت جریر بن عبد اللہ کا اپنے اہل بیت کو مسواک سے بچے ہوئے پانی کو یا اس پانی کو جس میں مسواک بھگوئی گئی تھی ، استعمال کرنے کی اجازت ینے سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ایسا پانی پاک ہے اور استعمال کیا جاسکتا ہے۔كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ: يَأْخُدُونَ مِنْ فَضْلٍ وَضُوْءٍ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ - یعنی لوگ آپ کے بچے ہوئے پانی سے برکت چاہتے تھے۔مَشحَ اور تمسح برکت دینے اور چاہنے کے معنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔مسیح کے معنے مبارک، جسے برکت دی گئی۔روایت نمبر ۱۸۹ سے ظاہر ہے کہ صحابہ کو برکت حاصل کرنے کی اس قدر ہوں تھی (إِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ الا الله كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ) که جب آپ وضو کرتے تو آپ کے وضو کا پانی لینے کے لئے قریب تھا کہ وہ آپس میں لڑ پڑیں۔اس قسم کے مظاہرہ محبت کی ایک اور مثال کتاب الشروط۔باب الشروط فی الجهاد۔روایت نمبر ۲۷۳۴ میں بھی ملاحظہ ہو۔مخلصانہ عقیدت مندی اور محبت و عشق کا یہ عجیب نظارہ تھا جو آپ کے سوا کسی اور انسان کو نصیب نہیں ہوا۔صحابہ کو کامل یقین تھا کہ وہ پانی شفا ہے اور وہ ان کے لئے فی الحقیقت شفا کا موجب ہوتا تھا۔علم نفس اس کی کچھ ہی تشر یحیں کرے، ہمیں امر واقعہ سے غرض ہے۔روایت نمبر ۱۸۸ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ کتاب المغازی باب غزوۃ الطائف کی پانچویں حدیث میں مذکور ہے۔آپ اس وقت جعرانہ مقام پر تھے کہ اتنے میں ایک بدوی آیا اور اس نے کوئی وعدہ پورا کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم